NewsHub

خیبرپختونخوا: ڈاکٹروں کا وزیرصحت کےخلاف مقدمہ درج نہ ہونے تک ہڑتال کا اعلان

خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل (کے پی ڈی سی) نے سرجیکل وارڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر کو مبینہ زدوکوب کرنے والے صوبائی وزیر صحت اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔

کے پی ڈی ایس کے رکن ڈاکٹر سراج نے ڈان نیوز کو بتایا کہ ’وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام اللہ خان اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے تک تمام طبی مراکز میں ہڑتال جاری رہے گی‘

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پر ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی حمایت کا الزام

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہڑتال سے متعلق فیصلہ کے پی ڈی سی کے اجلاس میں لیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر تمام طبی عملہ ایک صفحے پر ہے اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) کے ڈاکٹروں نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنانے پر ہڑتال کردی تھی۔

بعدازاں سراپا احتجاج ڈاکٹروں نے ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے متصل یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کردیا تھا۔

اس دوران ڈاکٹروں پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم صوبائی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے گئی تو انہیں بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مزیدپڑھیں: پنجاب، خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، مریضوں کو مشکلات کا سامنا

کے پی ڈی سی کے رکن ڈاکٹر فاروق نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں کے مابین سخت جملوں کے درمیان ایک دوسرے کو دھکے بھی دیئے گئے۔

صوبائی وزیر کی جانب سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو تشدد کا نشانہ بنانے سے قبل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی پروفیسر نوشیروان بخاری ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے کہ اس دوران ڈاکٹر ضیا الدین آفریدی میٹنگ ہال کا دروازہ کھولتے ہوئے داخل ہوئے اور خیبرمیڈیکل کالج میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر تعینات نہ کیے جانے کا شکوہ کرنے لگے۔

اسی اثنا میں ڈاکٹر ضیاالدین نے پروفیسر نوشیروان بخاری پر انڈے پھینکے جس کے بعد پولیس ڈاکٹر ضیاالدین کو میٹنگ ہال سے باہر لےگئی۔

ایک گھنٹے بعد صوبائی وزیر صحت ہسپتال پہنچے اور پروفیسر نوشیروان بخاری کی درخواست پر ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ پروفیسر نوشیروان بخاری امریکا سے ہر ماہ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں اور شعبہ صحت میں 2013 سے اصلاحات لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: کم عمری، جبری شادی کے خلاف بل منظور، سول سوسائٹی معترف

وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام نے ڈاکٹر سے ملاقات اور دونوں کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جو جلد ہی جسمانی تشدد کی صورت اختیار کرگیا۔

اسی دران وزیر صحت کے گارڈز پیچھے سے آئے اور سرجن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ضیاالدین کے سر اور گردن پر چھوٹیں آئیں۔

ڈاکٹر نوشیروان بخاری پر انڈے پھینکے کے الزام میں ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

بعدازاں ڈاکٹر حشام انعام نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے صرف ’اپنا تحفظ‘ کیا۔

صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹرنوشیروان بخاری سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے طرز عمل کی معافی مانگنے گئے تھے۔

مزیدپڑھیں: پاکستان میں کم عمری کی شادیاں، وجوہات اور اُن کے نقصانات

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’ڈاکٹر ضیاالدین کے ہاتھ میں تیز دھار والا کوئی آلہ تھا جس کے بعد ان کے گارڈز نے کے ٹی ایچ کے اسسٹنٹ پروفیسر کو روکا اور زدوکوب کیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی وزیر صحت نے ان سے بدزبانی کی اور اپنے گارڈز کو زدوکوب کرنے کا حکم دیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔

بعدازاں ہسپتال انتظامیہ نے خیبرمیڈیکل کالج میں ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے داخلے پر پابندی لگادی۔

Read More
  • 191
Loading ···
No more