NewsHub

گرفتار یوں کا موسم

Posted on June 12, 2019 By Majid Khan کالم

Altaf Hussain

تحریر : الیاس محمد حسین

آج کل جس انداز سے دھڑادھڑ سابقہ حکمرانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں لگتاہے گرفتاریوں کا موسم آن پہنچاہے سب سے پہلے میاں نواز شریف، پھر انکی بیٹی پھر خادم ِ اعلیٰ کا خاندان گرفتار ہوا اب زرداری خاندان احتساب کی لپیٹ میں ہے آج حمزہ شہباز شریف کو نیب نے دھر لیا گیا لیکن اس سال کی سب سے دھماکے خبر MQM کے بانی الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری ہے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد نہلے پہ دہلا الطاف حسین کی گرفتاری ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان تمام رہنمائوںکی گرفتاری پران کے حامی زبردست احتجاج کررہے ہیں اور مخالفین خوش بلکہ انتہائی خوش نظرآرہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی گرفتاری کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا سن تھا شنید ہے کہ سیدخورشید شاہ، بلاول بھٹو زرداری، ہ شہبازشریف،مولانافضل الرحمن،فریال تالپور، شاہد خاقان عباسی، قائم علی شاہ،مراد علی شاہ اوروزیر دفاع پرویز خٹک کی گرفتاری کی تیاریاںکی جارہی ہیں یعنی اب محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔کمال ہے ملک کے بیشتر سیاستدان نیب کے خلاف ہیں حالانکہ ماضی کی حکومتوںنے لوگوںکے پر زورمطالبہ پر بھی نیب کا ادارہ ختم کرنے سے انکارکردیا تھا سب سے پہلے نیب کو میاںنوازشریف نے آصف علی زرداری ور ان کی شہیداہلیہ کے خلاف استعمال کیا پھر چل سو چل ہو گئی۔

کہا جاتا ہے کہ انہوںنے آج وزیر اعظم عمران خان وضاختیں کررہے ہیں کہ ہم نے آصف علی زرداری اور شریف فیملی کے خلاف کوئی نیامقدمہ نہیں بنایا یہ لوگ ایک دوسرے کے دور ِ حکومت میں بنائے گئے مقدمات کو فیس کررہے ہیں۔اس وقت جو حالات ہیں ان کا تقاضاہے کہ ہرکرپٹ شخص کا بے رحم احتساب کیا جائے اس کے بغیرپاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ حکمرانوں اور اس کے حواریوں نے ملک کو جی بھرکرلوٹا پھر بھی ان کی نیت نہیں بھری عام آدمی کو اسی لئے انصاف نہیں مل رہاجب حکمران اربوں کھاکرڈکاربھی نہ ماریں تو غریب کہاں جائیں؟۔شریف فیملی اور زرداری خاندان تو میگا کرپشن کیسز میںتو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے درجنوںمقدمات میں ملوث ہیں خودمیاںنوازشریف اپنے بیٹوںکی اربوں کھربوں کی جائیدادوںکی منی ٹریل نہیں دے پائے ، خادم ِ اعلیٰ کے صاحبزادے سلمان شہبازاور داماد علی عمران نیب کو چکر دے کر بیرون ِ ممالک فرارہو چکے ہیں یہی طریقہ ٔ واردات سابقہ وزیر ِ خزانہ اسحاق ڈار نے اختیارکیا اور وہ بھی لندن بھاگ گئے حمزہ شہبازشریف بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کیے الزام میں گرفتار کرلئے گئے ہیں ایک کالم نگار کا کہا سچ ہے کہ ان لوگوں نے ملکی خزانہ کی لوٹ مارکرکے اپنے لئے دولت کے پہاڑ جمع کرلئے جس کے نتیجہ میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ان کی لوٹ مار کی وجہ سے عام پاکستانیوںپر نت نئے ٹیکسز لگائے جارہے ہیں اورلوگ دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں۔سابقہ حکمرانوں زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا طریقہ ٔ کار میں بڑی مماثلت ہے۔

اب یہ تو معلوم نہیں جعلی بنک اکائونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا طریقہ ٔ واردات کس نے ایجادکیا غالب خیال ہے کہ شریف خاندان نے زرداری صاحب سے استفادہ کیاہے ملازمین کے بعداب ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے کروڑوںکی منی لانڈرنگ کرکے ملک کو کھوکھلاکردیا گیا پھر بھی یہ لوگ اداروںکو گھورتے ہیں یقینا ایسے لوگ ملک وقوم کیلئے ناسور ہیں۔اسی تناظرمیں وزیر ِ اعلیٰ عثمان بزدار نے بجا طورپر درست کہاہے کہ سابق حکمرانوں نے وطن عزیز کے بچے بچے کو مقروض کر کے پاکستان کے ساتھ ظلم کیا اور بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے عوام کے نام پر قرضے لئے لیکن عوام پر خرچ نہ کیے، موجودہ حکومت کو ورثے میںتباہ حال معیشت اورکھوکھلے قومی ادارے ملے،پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے معیشت کی بربادی کی،پاکستان کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کا سفرکھوٹا کرنے والوں کو اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا،تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کوصحیح ٹریک پر لانے کیلئے مشکل فیصلے کیے ہیں اور ملک کو درست سمت میںلے جانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں، عوام بہت جلد خوشحال اور بدلا ہوا پاکستان دیکھیں گے۔

وزیراعلیٰ نے بیان میں کہا کہ سابق حکمرانوں کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کے باعث ملک کنگال ہوا اورماضی میں زبانی جمع خرچ سے کام چلایاگیا لیکن اب کھوکھلے نعروں کا دور گزرچکا ہے۔اب آتے ہیں دھماکے دار خبرMQMکے بانی الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کی یہ اتنی بڑی خبرہے کہ کراچی کے لوگ سکتے میں آگئے ہیں کئی لوگ تو اسے ماننے کیلئے تیار نہیں تھے اب الطاف حسین کو مقامی پولیس سٹیشن منتقل کردیا گیا ہے بہرحال یہ مکافات عمل ہے حالات بتاتے ہیں کہ اب مزید تھوک کے حساب سے گرفتاریاں ہوں گی اتنی گرفتاریاں کہ لوگ نام گنتے گنتے گنتی بھول جائیں گے اور ملک لوٹنے والے لٹیرے عبرت کا نشان بنیں گے۔

Ilyas Mohammad Hussain

تحریر : الیاس محمد حسین

Read More
  • 165
Loading ···
No more