NewsHub

امریکا کی مجبوری پاکستان کے لیے سنہری موقع

Posted on December 5, 2018 By Majid Khan کالم

Donald Trump – Imran Khan

تحریر : محمد صدیق پرہار

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک خط بھیجا جس میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے کوششوں پر زور دیا۔ جب کہ خط میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان میںامن کے لیے کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پرممکن کردار ادا کریں گے۔

کہتے ہیں کہ کسی سے کوئی کام کراناہواوروہ آسانی سے نہ کردیتا ہوتواس سے کام کرانے کے لیے تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اسے ڈرایا دھمکایا جاتاہے کہ اگرتونے یہ کام نہ کیا توتیرے ساتھ یہ ہوسکتا ہے وہ ہوسکتاہے۔ اسے جانی ومالی نقصان سے بھی ڈرایاجاتاہے۔ دوسراطریقہ یہ استعمال کیاجاتاہے کہ جس سے غیرمعمولی کام کراناہوتواس کولالچ دیاجاتا ہے کہ اگروہ یہ کام کردے تواس کویہ کچھ دیاجائے گا۔ اگریہ دونوںطریقے بھی کام نہ کراسکیں توتیسرا طریقہ یہ استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کی خوشامدکی جاتی ہے۔ اس کے کسی کام کی تعریف کرلی جاتی ہے۔افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہویا اوراب افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کامسئلہ ہوامریکہ کوجب بھی پاکستان کی ضرورت پڑی ہے ، اس نے پاکستان سے اپنے مطلب کاکام کرانے کے لیے مندرجہ بالاتینوں طریقے استعمال کیے ہیں۔

پہلے دوطریقے امریکہ اس وقت بھی استعمال کرچکا ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدرنے اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم کوایٹمی دھماکے کرنے سے روکنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں اوراربوں ڈالرامدادکالالچ بھی دیا۔ مگراس کے پاکستان کوایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے یہ دونوں طریقے کامیاب نہ ہوسکے اورپاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیے۔ پوری دنیاجانتی ہے امریکہ کوافغانستان میں بدترین شکست کا سامنا کرناپڑا۔ اب وہ گزشتہ کئی سالوں سے افغان طالبان سے مذاکرات کی کوشش کررہا ہے ۔ امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرنہیںلایاجاسکتا۔ اس لیے اس نے پاکستان سے یہ کام کرانے کے لیے پاکستان کی سابقہ حکومت کے دورمیں پہلے دونوں طریقے استعمال کرلیے ۔ امریکہ نے مختلف جوازبناکرپاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈزکی رقم روک لی۔ یہ وہ رقم تھی جوپاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خرچ کرچکا ہے۔ یہ امریکہ کی طرف سے نہ توکوئی امدادتھی اورنہ ہی اس کاکوئی احسان۔ امریکہ نے جب دیکھا کہ پاکستان سے کام کرانے کے لیے یہ حربہ کامیاب نہیںہوسکا تواس نے پاکستان کی تعریف کرناشروع کردی دوسرے لفظوں کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اب تیسرے طریقے کواستعمال کررہا ہے۔اس لیے اس نے وزیراعظم عمران خان کوبھیجے گئے خط میںپاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ نہیںبتایا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے کس کردارکوسراہا ہے اورکس حوالے سے سراہا ہے، اگرامریکہ نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردارکوسراہا ہے تویہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب امریکہ پاکستان کے کردارکی تعریف کررہا ہے تواس نے پاکستان کے کردارکوتسلیم کرلیا ہے۔ کیوںکہ کسی کے کردارکی اس وقت ہی تعریف کی جاتی ہے جب اس کے کردارکوتسلیم کیاجاتاہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاامریکہ نے واقعی پاکستان کے کردارکوتسلیم کرلیا ہے یااپناکام کرانے کے لیے تیسر ے طریقے کومجبوری کے تحت استعمال کررہا ہے۔ اس بات کوسمجھنے کے لیے ہمیں ایک کہانی سے رابطہ کرناپڑے گا۔ وہ کہانی یہ ہے کہ ایک سرمایہ دارکے پاس ایک ایساملازم بھی تھا جواس کے پاس گزشتہ بیس سالوں سے کام کررہاتھا۔بیس سال کام کرنے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔

سرمایہ دارنے اپنے تمام کاموں کی نگرانی اس دیرینہ ملازم کے حوالے کررکھی تھی۔ اس کے کاروبارکوبھی وہی ملازم دیکھتا ، اس کی زمینوںکی دیکھ بھال بھی کرتا اوردیگرتمام چھوٹے،بڑے کام بھی وہی ملازم کراتاتھا۔ سرمایہ دارنے اس ملازم کواپنی گاڑی کی چابی اوررہنے کے لیے دوکمروں ،چاردیواری اوربیٹھک پرمشتمل رہائش بھی دے رکھی تھی۔ وہ اسے تنخواہ کے علاوہ جیب خرچ بھی دیتاتھا۔ سرمایہ دارکوجب کوئی ایساکام کراناہوتا جوآسانی سے نہ ہوسکتاہویاوہ کام کسی اورسے نہ کرایاجاسکتاہوتووہ ایساکام اس دیرینہ ملازم سے کرایاکرتا، سرمایہ دارکبھی ڈرا، دھمکا کردیرینہ ملازم سے اپنے مطلب کاغیرمعمولی کام کرالیتا اورکبھی لالچ دے کر۔ ایک سال ایساہواکہ سرمایہ دارنے اس دیرینہ ملازم سے کوئی کام کرنے کوکہا ملازم اپنے سرمایہ دارمالک کے کہے ہوئے طریقے پرکام کرتارہا مگراس کے الٹے نتائج سامنے آرہے تھے۔ سرمایہ دارنے اس ملازم کویہ کام کرنے کے بدلہ میں سرمایہ دینے کاوعدہ بھی کیااورکچھ سرمایہ دیابھی۔ملازم نے ازخود غورکیا کہ کام تواسی طرح ہورہاہے جس طرح سرمایہ دارنے کہاہواہے اس کے نتائج الٹے کیوں آرہے ہیں۔

وہ ملازم اس نتیجے پرپہنچا کہ جب تک سرمایہ دارکے طریقے پریہ کام کیاجاتارہے گا اس کے نتائج الٹے ہی آئیں گے اس لیے اس نے وہ کام اپنے طریقے پرکرناشروع کردیا جیسے اس نے سرمایہ دارکے بتائے ہوئے طریقے کوچھوڑکراپنے طریقے پرکام کرناشروع کیا تواس کام کے وہی نتائج سامنے آنے لگے جوآنے چاہییں تھے۔سرمایہ دارکوجب یہ پتہ چلا کہ اس کے ملازم نے اس کے بتائے ہوئے طریقے کوچھوڑ کراپنے طریقے پرکام کرناشروع کردیا ہے تو اس نے یہ دیکھے بغیرکہ نتائج کیاآرہے ہیں اس نے ملازم سے ناراضگی کااظہارشروع کردیا۔ ملازم کی جوذمہ داریاں تھیں وہ توسرمایہ دارنے برقرار رکھیں اورناراضگی کااظہاراس طرح کیا کہ ملازم کودی گئی سہولیات روک لیں۔ اس نے ملازم سے اس کے کئی مسائل حل کرانے کاوعدہ بھی کررکھاتھا۔ملازم نے جب یہ دیکھا کہ سرمایہ دارنے اس کی سہولیات روک لی ہیں۔

اس کاخرچہ بھی بندکردیا۔ تواس نے بھی سرمایہ دارکی مزیدکوئی بات نہ ماننے کافیصلہ کرلیا۔ سرمایہ دار اسے جب بھی کوئی کام کہتاتووہ یہ کہہ کرانکارکردیتا کہ تجھے تومیراکام پسندبھی نہیں آتا۔ تونے میرے کام کی کبھی تعریف نہیں کی۔ جیسا کہ آپ اس کہانی میں پڑھ آئے ہیں کہ سرمایہ دارکوجب بھی غیرمعمولی کام کراناہوتاتووہ اس دیرینہ ملازم سے ہی کراتا۔ اب جب دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پررہنے لگے تھے اور ملازم نے سرمایہ دارکی باتوںکومانناچھوڑدیا تھا سرمایہ دارکواس ملازم سے ایک ایساکام کرانے کی ضرورت پڑگئی جوکام نہ توکوئی اورکرسکتاتھا اورنہ ہی وہ کام کسی اورسے کرایاجاسکتا تھا۔اس کام کوچھوڑابھی نہ جاسکتا تھا۔ وہ کام صرف اورصرف وہ ملازم ہی کرسکتاتھا۔ ملازم سے کام کرانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے خوش کیا جائے ۔ اس لیے سرمایہ دارنے ملازم سے اپنی ناراضگی کومعطل کردیا اوراپنے کسی دوسرے ملازم کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ توکام اچھاکرتاہے۔ اس ملازم نے جب یہ پیغام سناتووہ دل ہی دل میں خوش ہوا کہ سرمایہ دارنے اپنی ناراضگی ختم کردی ہے ۔ اسی لیے وہ میرے کام کی تعریف کررہا ہے۔اس نے یہ بات اپنے دوستوں اوررشتہ داروںکوبتائی کہ سرمایہ دارنے میرے کام کی تعریف کی ہے ۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ اس نے اپنی ناراضگی ختم کردی ہے۔

یہ سن کرکوئی سرمایہ دارکی تعریف کرنے لگ گیا کہ اس نے بڑے پن کاثبوت دیا ہے، ناراضگی ختم کردی ہے توکوئی اس ملازم کومبارکباددینے لگ گیا۔سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی سب نے اپنے اپنے اندازاوراپنے اپنے الفاظ میں تعریف کی۔اس ملازم کے دوستوںیارشتہ داروںمیں ایک نوجوان ایسابھی تھا جوخاموش تھا۔ سب کواس کی خاموشی پرتعجب تھا کہ اتنی بڑی بات ہوگئی ہے، سرمایہ دارنے ملازم سے ناراضگی ختم کردی ہے اس کے کام کی تعریف کی ہے ، سب لوگ سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی تعریف کررہے ہیں یہ نوجوان خاموش بیٹھا ہے ، سب نے اس نوجوان کی خاموشی پریہ تبصرہ کیا کہ یاتواس نوجوان کوبات کی سمجھ نہیں آئی ، بات سمجھ آئی ہے توپسندنہیں آئی۔کسی نے اس نوجوان سے پوچھا کہ بیٹا توخاموش ہے تونے سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی کوئی تعریف نہیںکی کیاتجھے یہ بات پسندنہیں آئی۔نوجوان نے کہا کہ بات صرف مجھے سمجھ آئی ہے سمجھ توتمہیں نہیں آئی۔یہ سن کرسب حیران ہوگئے کہ یہ نوجوان یہ کیاکہہ رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ کیابات ہوئی بات صرف تجھے سمجھ آئی ہے اورکسی کونہیں۔سب تجھ سے عمراورتجربے میںبڑے ہیں۔ دراصل بات تجھے سمجھ نہیں آئی۔ نوجوان نے ابھی فیصلہ ہوجائے گا کہ بات کس کوسمجھ نہیں آئی۔اس نوجوان نے اس ملازم سے پوچھا کہ توکیسے کہہ سکتاہے کہ سرمایہ دارنے تجھ سے ناراضگی ختم کردی ہے۔

ملازم نے کہا کہ سرمایہ دارنے پیغام بھجوایاہے کہ توکام اچھاکرتاہے۔نوجوان نے کہا کہ اس سے کیسے ثابت ہوتاہے کہ سرمایہ دارنے ناراضگی ختم کردی ہے ، ملازم نے کہا کہ اس نے میرے کام کی تعریف کی ہے۔ نوجوان نے کہا کہ کیاکسی تعریف کرنے سے یہ کہاجاسکتاہے کہ اس نے واقعی ناراضگی ختم کردی ہے۔ کسی اورنے کہا کہ عجیب نوجوان ہے اگرسرمایہ داراب بھی ناراض ہے تواس نے تعریف کیوںکی۔نوجوان نے عجیب میںنہیںتم ہو۔ میں یہ بات ابھی ثابت کردیتاہوں۔ اس نوجوان نے سرمایہ دارکے ملازم سے پوچھا کہ جب سرمایہ دارتجھ سے ناراض ہواتھا تواس نے کیاکیاتھا۔ ملازم نے کہا کہ ناراض ہونے سے پہلے وہ مجھے اتناجیب خرچ دیاکرتا تھا اوریہ یہ سہولیات بھی دے رکھی تھیں ، جب وہ ناراض ہواتواس نے جیب خرچ اوردوسری سہولیات روک لیں ، اس نے میرے کسی کام کی تعریف نہیں کی، میرے ہرکام میںکوئی نہ کوئی غلطی ضرورنکالی ہے۔ اب اس نے میرے کام کی تعریف کردی ہے توثابت ہوتاہے کہ اس نے ناراضگی ختم کردی ہے۔ نوجوان نے کہا کہ یہ تمہاری خوش فہمی یاغلط فہمی ہے، ملازم نے کہا کہ وہ کیسے ، نوجوان نے کہا کہ سرمایہ دارکوتجھ سے ناراض ہوئے کتناعرصہ ہوگیا ہے ، ملازم نے کہا کہ دوسال، نوجوان نے کہا کہ اس کامطلب ہے کہ سرمایہ دارنے دوسال تک تجھے جیب خرچ اوردوسری سہولیات نہیںدیں جووہ دیاکرتا تھا تجھ سے ہروہ کام کراتارہا جوتوپہلے سے کرتاآرہا ہے ، ملازم نے کہا کہ ہاں ایساہی ہے ، نوجوان نے کہا کہ کیاسرمایہ دارنے دوسال کے روکے گئے جیب خرچ میں سے کچھ خرچ بھجوایا ہے یایہ پیغام بھجوایا ہے کہ اس سے کہو کہ اپناجیب خرچ لے جائے اس کادوسال کاروکاہواخرچ اسے ایک ساتھ یاقسطوںمیںمل جائے گا، ملازم نے کہا کہ نہ توجیب خرچ آیا ہے اورنہ ہی ایساکوئی پیغام ملاہے، نوجوان نے کہا کہ کیاسرمایہ دارنے یہ پیغام بھی بھجوایاہے کہ اس سے کہو کہ جوسہولیات وہ پہلے استعمال کیاکرتا تھا اب بھی وہ وہی سہولیات استعمال کرسکتا ہے توملازم نے کہا کہ ایسابھی کوئی پیغام نہیں آیا۔ اس کے بعدنوجوان نے کہا کہ نہ توسرمایہ دارنے روکے گئے جیب خرچ میں سے کچھ بھجوایاہے نہ اس نے جیب خرچ لے جانے اورروکی گئی سہولیات بحال کرنے کاپیغام بھجوایا ہے صرف تھوڑی سی تعریف کردی ہے ، اب بتائو بات کس کو سمجھ نہیں آئی تمہیںیامجھے۔ یہ سن کرسب لوگ حیرت سے سوچ میں پڑگئے۔

کسی نے کہا کہ یہ نوجوان سچ کہہ رہا ہے دراصل بات ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ نوجوان نے ملازم سے کہا کہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں سرمایہ دارتجھ سے کوئی کام کراناچاہتاہے اس لیے تعریفیں کررہا ہے۔ اب یہ کہانی پڑھ کرامریکاکوسرمایہ دارسمجھ لے تووہ اپنی سوچ کاخود ذمہ دارہے۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں بھیجے گئے خط میںپاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ نے پاکستان کی روکی گئی کولیش سپورٹ فنڈز کی اقساط بحال کردی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی نہیںبتایا کہ امریکی صدرنے پاکستان کاکوئی مطالبہ منظورکرکے عملی اقدامات کاآغازکردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان امریکہ کی طرف سے پاکستان کے کردارکوسراہے جانے کواپنی کامیابی قراردیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ماضی میں امریکاکے ساتھ معذرت خواہانہ موقف اختیارکیاگیا۔ اب ہم نے امریکاکوبرابری کی بنیادپرجواب دیاتوٹرمپ نے خط لکھا۔ امریکاکے ساتھ یہ رویہ سابقہ دورحکومت میں بھی روارکھاگیا۔ جس کی وجہ سے اس نے کولیش سپورٹ فنڈزکی اقساط روک لیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی اپنی پالیسی اورسی پیک اس کامنہ بولتاثبوت ہیں ، عمران خان نے امریکا کے ساتھ اس رویہ کومزیدآگے بڑھایا ہے۔ امریکانے پاکستان کے کردارکی اس لیے تعریف کی ہے کہ اس نے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کے لیے پاکستان کاتعاون بھی مانگا ہے۔ اس مسئلہ پاکستان کی تعریف نہیں بلکہ افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانا ہے۔

افغانستان میں امن پاکستان کے مفادمیں ہے۔ اب یہ امن امریکاکی مجبوری بھی بن چکا ہے۔افغانستان میںامن کے لیے طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں اورطالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کے لیے امریکاکوپاکستان کی ضرورت اورمجبوری ہے۔ اب یہ سنہری موقع ہے کہ امریکا کی مجبوری سے فائدہ اٹھایاجائے۔ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میںامن کاکرداراداکرنے پرآمادگی ظاہرکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ٹرمپ کوجوابی خط میں لکھیں کہ پاکستان افغانستان میں اپناکرداراداکرنے کوتیارہے اس سے پہلے امریکاپاکستان کی کولیش سپورٹ فنڈز سمیت تمام روکی گئی تمام رقوم بحال کرکے پاکستان کوفراہم کرے۔ ایران ، پاکستان گیس پائپ لائن جوگذشتہ پانچ سالوں سے تعطل کاشکا رہے اس کوبچھانے کی اجازت دے، پاکستان ،افغانستان کی سرحد پرتعمیرکی گئی باڑ کے اخراجات اداکرے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کوجانی ومالی جونقصان ہواہے وہ پوراکرے ، کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربھارت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالت میںمقدمہ درج کرائے، اقوام متحدہ کی قراردادپرعمل نہ کرنے پربھارت کے خلاف بھی وہی پابندیاں عائدکرے جوایٹمی دھماکے کرنے پرپاکستان کے خلاف عائدکی گئی تھیں۔کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کاوعدہ پوراکرائے ۔آئی ایم ایف اورعالمی بینک میں پاکستان نے جوسوداداکرنا ہے وہ ختم کرائے۔افغانستان میںامن اورافغان طالبان سے مذاکرات اب امریکاکی سخت مجبوری ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان یہ موقف اپنائیں تمام سیاسی قیادت اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی اورامریکا بھی پاکستان کی ہربات ماننے پرمجبورہوجائے گا۔ پاکستان کوہمت، حوصلہ اورموثرحکمت عملی سے کام لینا ہو گا۔

Muhammad Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Read More
  • 525
Loading ···
No more