NewsHub

کیا عمران خان یہودی ایجنٹ ہے؟

گذشتہ سات برس سےعمران خان بارے عجیب چومکھی جاری ہے- مولانا فضل الرحمان، مسلسل عمران خان(بلکہ پوری تحریک انصاف) کو یہودی ایجنٹ قراردے رہے ہیں- قوم مسلسل مولانا کے الزام پہ اپنا ردعمل دکھاتی جارہی ہے-خاکسارمسلسل مولانا سے التماس کررہا ہے کہ ہتھ ہولا رکھیں اورعمران خان، مسلسل علماء کی تائیدِمزید حاصل کرتا جارہا ہے-

کاش کہ جمعیت میں کوئ رجلِ رشید، مولانا کوٹوکتا کہ بعض نفرت انگیزجملے، صدیوں تلک قوم سے خراج لیتے رہتے ہیں-میرا آج بھی یہی گمان ہے کہ ہزاروں علماء کا قائد، ایک وقتی فائدہ حاصل کرنے کیلئے، کذب وافتراء کا سہارا نہیں لے سکتا- سات برس میں یہی فرق پڑا ہے کہ پہلے میرا گمان تھا مولانا کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہوگا جبکہ آج مجھے یقین ہے کہ مولانا کے پاس ثبوت وغیرہ کوئ نہیں بلکہ بشری تقاضے کے پیش نظر فقط انانیت سےمجبور ہیں-

اس موضوع پرآج کا یہ تفصیلی اورتلخ مضمون، مولانا کو واپس لانے کی آخری کوشش کے طور پر لکھا جارہا ہے-میں نے اسے مندرجہ ذیل سات سوالات وجوابات کی صورت مرتب کیا ہے-
1-عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنے کی ابتداء کب ہوئ؟
2-اس الزام پہ میرا پہلا ری-ایکشن کیا تھا؟
3-مولانا کے پاس اس الزام بارے کیا دلائل موجود ہیں؟
4-میں نے جمعیت کواس بارے کیا دلائل مہیا کئے تھے؟
5-مولانا نے عمران خان کو ازخود اپنے پیچھے کیوں لگالیا؟
6-عمران خان نے ابتک کونسا یہودی ایجنڈا پورا کیا ہے؟
7-مولانا کو اب کیا کرنا چاہیئے؟

پہلے سوال پر تبصرہ:
اوائل 2012ء سے مولانا نے عمران خان کویہودی ایجنٹ قراردے دیا-پرانے اخبارات گوگل کرلیجئے، عمران خان سے لڑائ کی ابتداء مولانا نے ہی کی تھی-(اس زمانے میں عمران خان صرف نواز اورزرداری کوٹارگٹ کئے ہوئے تھا)-خود مولانا صاحب کا بیان ہے کہ اس زمانے میں “خلائ مخلوق” نےمولاناپرپریشر ڈالاتھا(اورلالچ بھی دیا تھا)کہ عمران خان کے ساتھ اتحاد کرلیں-(بقولِ مولانا، استخارہ کےبعد انکارکیا)-مولانا کا یہ دعوی بھی ہے کہ عمران، خلائ مخلوق کا مہرہ ہے-اب اگرخلائ مخلوق، ان دونوں کو قریب لانے کی کوشش کررہی تھی تو عمران کیوں بھلا مولانا کو گالی دیتا؟-(برسبیل تذکرہ، نواز شریف کی طرح مولانا بھی اس خلائ مخلوق کا نام نہیں لیتے حالانکہ یہودی ایجنڈا کا اصل سرپرست تووہ”جرنیل” ہواجومولانا کو تڑی لگارہا تھا-مولانا جیسے حق گو کواصلا” اسکا نام آشکار کرنا چاہیئے-لیکن اگر” قومی مفاد” میں اس”جرنیل”کویہودی ایجنٹ نہیں کہتے تو پھرعمران کا نام لینا بھی ناانصافی ہے کہ یہ تو فقط مہرہ ہوا)-
بہرحال، جب مولانا نے عمران خان پر وار کردیا تواسکے بعدہی عمران نے بیان دیا تھا کہ اب میں ایک بال پہ تین وکٹ لوں گا-یہ تھی باہمی تلخی کی ابتداء-

مگرجمیعت کے احباب فرماتے ہیں کہ عمران خان نے مولانا کو گالی دینے میں پہل کی تھی-
چلئے یونہی سہی- مگریہ گالی تو 1996ء میں نون لیگ نے ایجاد کی تھی- اس گالی کا جواب اگر یہودی ایجنٹی ہے تو پہلے نوازشریف کویہ لقب دینا چاہیئے تھا- سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ اگر کوئ مولانا کو گالی دے تو کیا جوابا” اسے دین سے خارج کردیا جائے گا-(یہ بھی مدنظر رہے کہ ایک عالم دین جب سیاست کے شعبہ میں آتا ہےتو اسکوبطور سیاستدان ہی ڈیل کیا جائے گا اورسیاست میں غداری یاکفر کے فتوے لگانا جمہوری رویہ نہیں ہوتا)-

دوسرا سوال: مولانا کے اس بیان پرمیرا ری-ایکشن کیا تھا؟-

مجھے چھوڑیئے، اپنا بتایئے کہ اگر آپ دیوبندیت کی تاریخ سے آشنا ہیں تو کیا آپ پرمولانا کا ایسا رویہ شاک نہیں گذرے گا؟- تکفیریت، اہل بدعت کا ہتھیاررہا ہے- دیوبندی اکابر، کافی عرصہ قادیانیوں کوبھی غیرمسلم قرار دینے میں متامل رہے تھے- پھر ایک سیاسی مخالف کو یہودی ایجنٹ قراردینا؟-اب اسکی یہ تاویلات کرنا کہ یہودی ایجنٹ سے ہماری مراد کفر کا فتوی نہیں تھا، “عذرِ گناہ، بدترازگناہ” والی بات ہے-(واضح ہوکہ “ایک مودودی، سویہودی”والا نعرہ کسی دیوبندی “اعلی حضرت”کا فتوی نہیں بلکہ صرف ہزاروی گروپ کا وضع کردہ نعرہ تھا)-

قرآن کے مطابق، انسان یا تو”حزب الرحمان” کا ایجنٹ ہے یا” حزب الشیطان” کا-تاہم، جب مولانا نے عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا توحیرانی ہوئ کہ گاندھی جی کے علاوہ، “انڈین ایجنٹ” فاطمہ جناح، “امریکی ایجنٹ” بے نظیربھٹو اور”روسی ایجنٹ” ولی خان کے ساتھ اتحاد کرنے والی جماعت کو اس پہ کیا تکلیف ہے اگروہ اسرائیلی ایجنٹ ہے؟- یہ مسئلہ توپاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں کا ہے، میراآپ کا نہیں ہے-
بالفرض عمران خان، یہودی ایجنٹ ہے تو کیا زرداری اور نوازشریف، امام ابوحنیفہ سے خلافت لئے ہوئے ہیں جنکے ساتھ دوستی پہ فخر کیا جاتا ہے؟-
دینی وابستگی رکھنے والے شخص کے دل میں یہ خدشہ پیدا ہونا فطری تھا کہ مولانا کے اس الزام کے ردعمل میں پی ٹی آئ کے دوست، اپنےعقیدے سے ہی بیزار نہ ہوجائیں-
لہذا، خاکسار نے بھی ہرطرح کوشش کی کہ مولانا کو اس رویے سے باز رکھا جائے-

پہلی کوشش، مولانا تک فردی درخواست پہنچانا تھا- یہ جان کرحیرت ہوئ کہ خود مولانا کی فیملی نے بھی اس بارے انکو روکنے کی کوشش کی تو فرمایا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے-(یعنی پارٹی کی مجلس عاملہ سے مشاورت کی ہی نہیں گئی تھی)- بعض مخلص احباب نے مولانا کو متوجہ کرنے کی کوشش کی تو جواب ملا کہ مجھے کشف ہوا ہے-(حالانکہ کسی کا کشف وغیرہ کسی دوسرے کیلئے کوئ شرعی حجت نہیں ہواکرتا)-
جب خلوت میں خاکسارکی بات نہیں سنی گئی تو علانیہ احتجاج کا سوچا-چنانچہ فیس بک پراعلان کیا کہ میں اس رویئے کی وجہ سے مولانا سے اپنی 25 سالہ رفاقت ختم کرنے کااعلان کرتا ہوں- خیال تھا کہ مولانا اس پہ نوٹس لیں گےمگر کسی نے لفٹ ہی نہیں کرائ-(ٹھیکیدار گروپ اور ذہنی اپاہج کارکنان سلامت ہیں تو سوال اٹھانے والوں کو کیوں لفٹ کرائ جائے؟)-

اگر میری ذات کو مسئلہ ہوتا تو اس چھوٹی پارٹی کو چھوڑ کرکسی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کرتا مگر رہ رہ کرخیال آتا تھا کہ مولانا کا یہ رویہ پورے مکتب فکر کیلئے ندامت کا باعث بنے گا-خود چونکہ بیرونِ ملک تھا تواگلا اعلان کیا کہ پاکستان کا کوئ بھی وکیل، اگراس الزام پرمولانا کو عدالت میں لے جائے توعدالتی اخراجات میرے ذمہ ہیں-اس بارے پشاور کے ایک نامی گرامی وکیل سے رابطہ بھی کیا مگر بات آگے نہ بڑھی-
جب مولانا اپنی ضد پہ ڈٹ گیا توپھرچارونا چار مولانا کو جسٹیفائ کرنے کی کوشش کی جسکا بیان آگے آئے گا-

تیسرا سوال: عمران خان کو یہودی ایجنٹ قراردینے کیلئے مولانا کے پاس دلائل کیا ہیں؟

شروع ایام میں ہم یہ سمجھے کہ اس بارے مولانا کے پاس کوئ ایسا پاورفل ثبوت موجود ہے جو مولانا سمیع الحق اور مولانا طارق جمیل وغیرہ جیسے علماء کومعلوم نہیں ہے(جسکی وجہ سے وہ بیچارےعالم دین ہوکر بھی ایک یہودی ایجنٹ سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں)- مگر جلد ہی احساس ہوگیا کہ مولانا کے پاس اتنے بڑے الزام کیلئے کوئ ڈھنگ کی دلیل ہی موجود نہیں ہے-

شاید مولانا کو خیال نہیں ہوا کہ آجکل میڈیا کا دور ہے اوراس پرعوامی جرح ہوگی-لہذا شروع ایام میں اس سوال کے جواب میں عجیب تاویلات فرمایا کرتے-مثلا” جب ایک ٹی وی اینکر نے مولانا سے ثبوت پوچھا تو فرمایا کہ ثبوت میں خود ہوں- کیا میں جھوٹ بولوں گا؟-(ایسا جواب تو کوئ پیغمبر ہی دے سکتا ہے کہ صرف میرے کہے پرایمان لاؤ)-
کبھی اس الزام کے ثبوت میں فرماتے کہ عمران خان کی بیوی، بچے یہودی ہیں-(گویا برخوردار بلاول اوربیٹی مریم توکسی خانقاہ میں پلے بڑھے ہیں)-بلکہ ایک بار تویہ بھی فرمایا کہ عمران خان، پاکستان میں شلوارقمیص پہنتا ہے جبکہ یورپ میں جینزپہنتا ہے-(یعنی یہ بھی گویا ثبوت ہوا)-

اس دوران،اسلام آباد دھرنا شروع ہوا توعمران خان بارے ایک قادیانی اورایک گوہرشاہی ویڈیوکلپ منظرعام پہ آئے-اہل جمیعت نے اس سے یہ برآمد کیا کہ ایسے گمراہ فرقے چونکہ عمران خان کوسپورٹ کرتے ہیں پس، عمران خان قادیانی ہے-

اس بات کوذرا دوسرے رنگ میں دیکھتے ہیں- خاکسار خود کو ببانگ دہل سیکولر کہتا رہا ہے جبکہ مولانا کو سپورٹ بھی کرتا ہے- کیا میرے سپورٹ کرنے پرمولانا کو بھی سیکولر کہا جائے گا یا مولانا اپنے عقیدے کی خود وضاحت کریں گے؟-

اگرچہ عمران خان اپنا عقیدہ میڈیا پہ بیان کرچکاہے تاہم میرا خیال ہے کہ عمران کو مذکورہ ویڈیوز بارے بھی وضاحت کرنا چاہیئے- تاہم، عمران خان سے ایسا مطالبہ کرنا مجھے توزیب دیتا ہے مگرمولانا کو نہیں-کیونکہ مولانا صاحب نے نوازشریف بارے” رسیداں کڈو”مہم کے جواب میں اصول بیان فرمایا تھا کہ اگرکوئ آدمی، اپنی کسی بات کی وضاحت نہیں کرنا چاہتا تو یہ اسکا حق ہے اوراس بنیاد پراسکو چور نہیں کہا جاسکتا-

بہرحال، قدرت نے یاوری کی اورمولانا کو ایک ثبوت ہاتھ آگیا-

ہوا یوں کہ لندن شہرکے میئر کیلئےالکشن میں ایک پاکستانی نژاد صادق خان اور عمران خان کا”یہودی” سالا آمنے سامنے آگئے اورعمران خان، اپنے سالے کو سپورٹ کرنے وہاں چلا گیا- مولانانے اسی بات کو “یہودی ایجنٹی” کا ثبوت بنالیا حالانکہ یہ بلدیاتی انتخابات تھے نہ کہ برطانوی قانون سازاسمبلی کے الکشن-یعنی برطانیہ کی اسرائیل کیلئے سرپرستی کو تبدیل کرنا دونوں امیدواروں کے دائرہ کارمیں نہیں آتا تھا- (طرفہ تماشا یہ کہ پاکستان کی قانون سازاسمبلی کی لاڑکانہ سیٹ جیتنےکیلئے مولانا کی جماعت نے بلاول کے مقابل”یہودی ایجنٹوں” کی سپورٹ حاصل کی ہے)-

خیر، ہمارا انگلینڈ کے بلدیاتی الکشن سے کوئ لینا دینا نہیں مگر پھر بھی عمران کا اپنے “یہودی سالے” کو سپورٹ کرنا اچھا نہیں لگا- سوال مگر یہ ہے کہ کیا الکشن میں سپورٹ کرنے سے “امیدوار”اور”سپورٹر” کا مذہب بھی ایک ہی ہوجاتا ہے؟- اگر ایسا ہے توخودمولانا نے تحریک نٖفاذ فقہ جعفریہ کو سیاسی سپورٹ دے کرزندہ رکھا ہوا ہے-اب کیا مولانا اور ساجد نقوی صاحب بھی ہم عقیدہ کہلائیں گے؟-

ایک اور دلیل بھی مولانا مہیا کرتے ہیں-لندن ہی میں کسی آرگنائزیشن نےاپنے سٹیج پرعمران خان کو خطاب کی دعوت دی(جیسا کہ مختلف تنظیمیں سیاسی لیڈران کو مدعوکیا کرتی ہیں)-خطاب میں عمران خان کا موضوع کیا تھا؟ اس سے کسی کوغرض نہیں مگر ڈائس پر ایک “لوگو” لگا ہوا تھا جس پر”فرینڈز آف اسرائیل” لکھا ہواتھا-اسکو بطور ثبوت مولانا نے پیش کیا کہ اب عمران خان کے یہودی ایجنٹ ہونے میں بھلا کیا شک رہ جاتا ہے؟-

عقل حیران ہے کہ کیا “ڈائس ، سٹیج اور لوگو” ایک مقرر کے ایمان بارے پیمانہ قراردیئے جاسکتے ہیں؟-خود مولانا نے ایرانی پارلمنٹ میں خطاب کیا تو کیا اس سٹیج کی بنیاد پہ وہ ایرانی ایجنٹ یا اہل تشیع میں شمار ہونگے؟- بلکہ کسی تنظیم یا اسکے سٹیج کو تو چھوڑیں، خود برطانیہ اور امریکہ ہی “فرینڈز آف اسرائیل” ہیں-پھر تو مولانا کو دینی حمیت کی بنا پران ممالک کادورہ ہی نہیں کرناچاہیئے-

بہرحال، مولانا کا”فرینڈز کا آف اسرائیل” والا استدلال تب قبول ہوگا جب اسرائیل میں سفارتخانہ رکھنے والے اسلامی ممالک کو بھی یہودی ایجنٹ قراردیں- غریب افغان مسلمانوں پر بلاوجہ آگ برسانے والی نیٹو ٖفورسز کا ایک رکن ترکی بھی ہے- مولانا خود کو بین الاقوامی لیڈر کہتے ہیں تو اردگان کو بھی یہودی ایجنٹ قراردیں-
چھوٹا منہ بڑی بات، مگر اہل جمعیت کو اس الزام کے ثبوت بارے زیادہ وقیع دلائل، اس خاکسار نے ہی مہیا کئے ہیں-ملاحظہ کیجئے-

چوتھا سوال:میں نے مولانا کے لئے کیا دلائل مہیا کئے؟-

مولانا معصوم عن الخطا نہیں ہے مگر مولانا کی جمہوریت اورامن کی خاطر بہت قربانیاں ریکارڈپرہیں -لہذاایک دو غلطیوں کی بناپر، مولانا کو ریجکٹ نہیں کیا جاسکتا- جب آپکے کسی بزرگ سے کوئ غلط بیانی سرزد ہوجائے اوروہ اس پہ ڈٹ جائے تو آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟- پہلے اس سے تنہائ میں مودبانہ اختلاف کرتے ہیں-پھر ذرا چیخ وپکارکیا کرتے ہیں- لیکن پھر بھی بزرگ باز نہ آیئے تومحلے میں اسکی بات رکھنے کیلئے کوئ توجہیہ ڈھونڈا کرتے ہیں-

یہی حال میرا ہوا کہ اب مولانا کے اس الزام کوجسٹیفائ کرنے کا ذمہ لے لیا-

وثوق سے کہتا ہوں کہ سب سے پہلے خاکسار نے ہی حکیم سعید مرحوم کی گمنام کتاب کا حوالہ اپنی کتاب میں پیش کیا جسکو آج تک اہل جمعیت اپنے رفرنس میں پیش کیاکرتے ہیں- مجھے یاد ہے کہ یہی حوالہ، جدہ سےبھائ یوسٖف خان نے مولانا کو ارسال کیا تھا اوراسی شام کوہاٹ جلسے میں مولانا نے اس حوالے کو اپنے الزام کی تائید میں پیش کیا تھا-
جب مولانا نے بھرے جلسے میں اس کتاب کےحوالے کو بطور ثبوت پیش کیا تو مجھے سمجھ آگئی کہ مولانا کے اپنے پاس اس الزام کا ثبوت کوئ نہیں(ورنہ وہ اسی کو پیش کرتے)-

اب اس حوالے بارے کچھ بات عرض کرتا ہوں-

حکیم سعید صاحب ایک ثقہ شخصیت تھے- یہ کتاب “جاپان کہانی” انکی بہت ہی غیرمعروف کتابوں میں سے ہے جو 1997ء میں لکھی گئی-(اس کے بعد 2007ء تک مولانا کی عمران خان سے دوستی رہی)- اس کتاب میں حکیم صاحب نے بغیر کسی ریفرنس کے یہ لکھا ہے کہ اسرائیلی ایجنسی موساد نے پاکستان پر حکمرانی کیلئے اپنے تین ایجنٹ میدان میں اتار دیئے ہیں- الطاف حسین، عمران خان اور نواز شریف-

چونکہ مجھے اپنے موکل(یعنی مولانا) کا دفاع کرنا تھا تو میں نے اس میں سے صرف عمران خان کا نام چن کر”رفرنس” بنادیا- جب قائدِ جمعیت نے بھی اس کتاب کا حوالہ دینا شروع کیا( جو کہ خود انہوں نے نہیں پڑھی تھی) تومیں نےاحباب سے عرض کیا بھائ اگر کسی نے پورا حوالہ پیش کرکے پوچھا کہ نواز شریف کے ساتھ آپ کیوں کھڑے ہیں تو کیاجواب دیں گے؟- پس مولانا نے یہ “ثبوت” بیان کرنا چھوڑ دیا-الحمدللہ-

حکیم سعیدمرحوم کی کتاب کا حوالہ دینا بھی صرف میرے لئے ہی مناسب ہے نہ کہ مولانا کیلئے-کیونکہ اس حوالے کی بنیادپرمیں تو تینوں شخصیات کو ہی یہودی ایجنٹ کہہ سکتا ہوں مگرمولانا نہیں-(اب یہ الگ بات ہے کہ بطورایک سیکولر مسلمان، مجھے اس ایجنٹی سے کوئ خاص مسئلہ نہیں ہے)-

عمران خان کویہودی ایجنٹ ثابت کرنے، اپنی کتاب میں ایک منطقی حوالہ بھی خاکسار نے پیش کیا ہوا ہے(اوروہ جاندارحوالہ ہے)-

ہوا یوں کہ ستمبر2013ء کے ضمنی الکشن میں، تحریک انصاف نے مولانا کو اس الزام کی بنیاد پرہتک عزت کاقانونی نوٹس دے ڈالا- اس نوٹس میں دوہفتے کے اندر مولانا سے معذرت خواہی اور دس کروڑ روپے ہرجانہ کا دعوی کیا گیا تھا- مولانا نے تو اس نوٹس ویلکم کیا مگر پی ٹی آئ والے خود ہی اپنے نوٹس کو فالو نہیں کرسکے- میرا کہنا ہے کہ یہ پسپائ ہی ان کیلئے قانونی ثبوت بن گئی ہے- دیکھئے، مولانا کو روزانہ کی بنیاد پرچورکہا جاتا ہے- اگرمولانااس الزام کواگنورکرتا ہے تو یہ مولانا کا ظرف ہے- لیکن اگر کسی دن مولانا خود کسی کے خلاف عدالت چلا جائے اور اگلا آدمی خم ٹھونک کر سامنے آجائے لیکن مولانا واپس بھاگ جائے تو قانونی طور پرگویا خود کو خود ہی چور ثابت کردے گا-

چنانچہ، تحریک انصاف کو یا تو عدالت نہیں جانا چاہیئے تھا یا پھر میدان نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا(ہوسکتا ہے اس وجہ سے اس نوٹس کو فالو نہ کیا ہو کہ انہی دوہفتے میں وہ ٹانک کا ضمنی الکشن جیت گئے تھے جوانکا اصل ٹارگٹ تھا)- باردگرعرض ہے کہ یہ والی منطقی دلیل بھی یہ خاکسارہی پیش کرسکتاہے نہ کہ مولاناصاحب- اسکی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے ملتان میٹرو بارے کرپشن کا الزام لگانے پرعمران خان کو ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا اورپھر خود ہی اس سے دست بردار ہوگیا تھا- یعنی مذکورہ بالا فارمولے کے تحت شہباز شریف نے خود کو چورتسلیم کرلیا تھا- اب اسی چور کیلئے مولانا نے سوات میں اپنے قومی اسمبلی کے امیدوار کو دست بردار کیا-(پس یہ منطقی دلیل مولانا کے پیش کرنےکی نہیں ہے)-

واضح رہے کہ اپنی کتاب میں اپنے موکل کیلئے مذکورہ بالا منطقی دلائل پیش کرنے کے باوجود، مولانا کی اس روش سے اختلاف کیا ہے اورمولانا کو اس سے باز رہنے کی درخواست کی ہے-

پانچواں سوال: مولانا نے عمران کو اپنے پیچھے کیوں لگایا؟-

یہ ایک معمہ ہے کہ جب عمران خان کا ٹارگٹ مولانا نہیں بلکہ نوازشریف تھا تو خود مولانا نے اسکو اپنے پیچھے کیوں لگالیا؟- مولانا اپنی پارٹی حیثیت سے بھی بڑھ کرعمران خان کے جلسوں کا سیاسی مقابلہ کررہے تھے تو پھر اس مذہبی بلیک میلنگ کا کیا جواز تھا جس نے انکی پارٹی کوہی بیک فائر کردیا؟-
مارکیٹ میں اس بارے دوتھٰیوریاں موجود ہیں-

پہلی تھیوری تو یہ ہے کہ چونکہ نوازشریف کی اپنی اخلاقی ساکھ، عمران خان سے مقابلہ کرنے کی نہیں تھی تو اسکو مذہبی بنیاد پر بیک فٹ کرنے، مولانا کوخریدا اورمولانا نے مزدوری کا حق ادا کیا-
مولانا کو قریب سے جاننے کے بعد، خاکسار نہیں سمجھتا کہ مولانا کو خریدا یا دبایا جاسکتا ہے- پس اس تھیوری کو ریجیکٹ کرتا ہوں-

دوسری تھیوری یہ ہے کہ چونکہ مولانا بڑا زیرک سیاستدان ہے-اس نے اٹھتی گھٹا سے ہی اندازہ لگالیا کہ عمران خان کا ٹارگٹ بھلے زرداری اورنواز شریف ہو لیکن اس نے مولانا سے صوبہ چھین لینا ہے-پس مولانا نے اپنی پونجی بچانے کیلئے یہ جارحانہ پالیسی بنائ-
میں ابھی مولانا سے اتنا بدگمان نہیں ہوا کہ وہ ایک صوبائ حکومت کی خاطر،سیاسی مخالفین کے عقائد پہ ناحق حملہ کریں گے- پس یہ تھیوری بھی ریجکٹ کرتا ہوں-

میرا اپنا گمان یہ ہے کہ ایجنسیوں میں موجود، نواز اور زرداری مافیا کے لوگوں نے مولاناکی آنکھوں میں دھول جھونکی اور دینی حمیت کے واسطے سے رازداری کی شرط پر، مولانا کوخفیہ مواد مہیا کیا کہ یہ آدمی صیہونی ایجنڈا لے کرآیا ہے اورآپ براہ کرم دین وملت کی مدد کریں- مولانا عالم الغیب نہیں ہے- اس نے ان پروفیشنل ایجنسیوں پہ بھروسہ کرکے، اپنا دینی فریضہ سمجھ کرخود پرملامت برداشت کی اور یہ مہم چلائ- مگر میرا یہ بھی خیال ہے کہ وقت کے ساتھ مولانا کو احساس تو ہوگیا ہے کہ انکے ساتھ ہاتھ کیا گیا مگراب وہ انانیت میں پھنس چکے ہیں (خیر خواہ مگرفہیم کارکنان ہی انکو واپس لاسکتے ہیں)-

چھٹا سوال: عمران خان نے ابتک کونسا یہودی ایجنڈا پورا کیا ہے؟-

گذشتہ پانچ سال میں پاکستان کے چار صوبوں پرچار الگ الگ سیاسی پارٹیوں کی حکومت رہی-بلوچستان پہ پاک آرمی نامی پارٹی کی دائمی حکومت ہے، پس اسکا تذکرہ چھوڑیں- سندھ اور پنجاب میں مولانا کے دوست، زرداری اور نوازلیگ حکمران تھے- عجیب بات یہ کہ مولانا کوسندھ میں”مدارس ترمیم ایکٹ” جیسے”دین دشمن قانون” کے خلاف سڑکوں پہ آنا پڑ اورپنجاب میں “تحفظ خواتین جیسے “غیرشرعی” بل کے خلاف احتجاج کرنا پڑا تھا- جبکہ پختونخواہ میں(جہاں یہودی ایجنٹوں کی حکومت تھی) وہاں، مذہبی تو کیا انتظامی اقدامات پر بھی کبھی جمیعت کو احتجاج نہیں کرنا پڑا بلکہ الٹا ہمارے “لبرل دوستوں” کا “یہودی ایجنٹوں”کے خلاف مسلسل احتجاج جاری رہا کہ مدارس کو امداد دی جارہی ہے اورمولویوں کومضبوط کیا جارہا ہے- گذشتہ پانچ سال میں ہمارے صوبے کا قائدِ حزب اختلاف(مولانا لطف الرحمان )اوروزیراعلی صاحب جس طرح آپس میں شیروشکر رہے ہیں،اس میں عقل والوں کیلئے کافی سے بھی زیادہ نشانیاں ہیں-

ساتواں سوال: مولانا کو اب کیا کرنا چاہیئے؟-

چاہئے تو یہ تھا کہ جب عمران خان نے مدینہ کی ریاست بنانے کا اعلان کیا (جوکہ ہرگز اسکے بس کی بات نہیں) تو مولانا فورا” کہہ دیتے کہ اس عالی مقصدکیلئے ہم غیرمشروط آپ کاساتھ دیں گے کیونکہ ہمارا کوئ شخصی تنازعہ نہیں ہے- دوچار ماہ بعد، مولانااسکی وعدہ خلافی کو بنیاد بنا کر تحریک چلاتے تو بات معقول ہوتی- لیکن مولانا اپنی انا میں مزیدہزیمت اٹھاتے جارہے ہیں-

خاکسار کا یہ عاجزانہ مشورہ ہے کہ مولانا اگر عمران خان سے مفاہمت نہیں بھی کرنا چاہتے تو بھی کم ازکم یہودی ایجنٹ والی بات سے رجوع کرلیں-آپ پوچھیں گے کہ اتنا عرصہ یہ الزام دہرانے کےبعد، اب مولانا رجوع کس بنیاد پر کریں گے؟ تو عرض یہ ہے وجوہات اورراستہ بنانا، ایک مولوی کیلئے کبھی کوئ مشکل کام نہیں ہوتا- تاہم، مجھے یقین ہے کہ مولانا کواپنے الزام سے رجوع کا سبب تلاشنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اگروہ یہ اعلان کردیں کہ عمران خان توبہ کرلے تو ہم اسکو معاف کرنے کیلئے تیارہیں-

مجھے امید ہے کہ مولانا کے مطالبے پرعمران خان برسرعام توبہ تائب بھی ہوجائے گا-
اگرپاکستان کا خیر خواہ ہے، تب بھی-اگراقتدار کا بھوکا ہے، تب بھی-

فیس بک تبصرے

تبصرے

Read More
  • 629
Loading ···
No more