NewsHub

پنجاب اسمبلی ارکان کی تنخواہوں ، مراعات میں اضافے کا بل روک لیا جائے : عمران خان کا گورنر کا حکم

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان امن کے راستے پر نکل چکا ہے تاہم بھارت، انتخابات تک ہمارے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے ‘بھارت کے الیکشن تک مسائل ہوسکتے ہیں کیونکہ جب آپ نفرتیں پھیلا کر الیکشن جیتتے ہیں تو اس میں پھر کشمیر جیسے واقعات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے ، امید ہے ہمارے تمام پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں گے جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات بھی وہاں عام انتخابات کے بعد تعلقات بہتر ہوں گے، آج پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، اگلے پی ایس ایل کے تمام میچز دبئی کے بجائے پاکستان میں ہوں گے، پاکستان ایک مشکل وقت سے گزرا ہے، سیکیورٹی فورسز نے ان حالات کا مقابلہ کیا اور آج پاکستان محفوظ ملک ہے، اب پاکستان میں اعتماد ہے کہ ہمیں سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی مسائل نہیں، ہم نے اس ما ئنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ہے کہ لوگ آکر سرمایہ کاری کریں اس کے لیے ویزا سروس کو آسان بنایا جارہا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوئٹزرلینڈ سے دو گنا ہیں، دنیا کی بڑی چوٹیاں یہاں موجود ہیں۔ جمعرات کو اسلام آباد میں آن لائن ویزا پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایک مشکل وقت سے گزرا ہے، سیکیورٹی فورسز نے ان حالات کا مقابلہ کیا اور آج پاکستان محفوظ ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں کے میچز پاکستان کے شہروں میں ہوں گے،انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کرکٹ کھیلی ہے میں جانتا ہوں کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا بہت بورنگ ہوتا تھا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم پراعتماد ہیں کہ پاکستان امن کے راستے پر نکل چکا ہے تاہم بھارت، انتخابات تک ہمارے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے الیکشن تک مسائل ہوسکتے ہیں کیونکہ جب آپ نفرتیں پھیلا کر الیکشن جیتتے ہیں تو اس میں پھر کشمیر جیسے واقعات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔عمران خان نے امید ظاہر کی کہ ہمارے تمام پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں گے جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات بھی وہاں عام انتخابات کے بعد تعلقات بہتر ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارت داخلہ آن لائن ویزا کے اجرا پر مبارکباد کی مستحق ہے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ویزا پالیسی پاکستان کو دنیا کے لیے کھولنے کی طرف اہم قدم ہے۔عمران خان نے کہا کہ آن لائن ویزا پاکستان کو دنیا کے لیے کھولنے کی طرف ایک اہم قدم ہے،انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ تھا کہ کسی کو پاکستان کا ویزا دینا مشکل سے مشکل بنادیا جائے یعنی وہ پاکستان نہ ہی آئے تو اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان خود انحصاری کی جانب گامزن تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی وزیراعظم کو امریکی وزیراعظم نے خود ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا۔وزیراعظم نے کہا کہ 70 کی دہائی میں سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا،پیسہ کمانا گناہ سمجھا جانے لگا جس سے سیاحت کو نقصان پہنچا۔عمران خان نے کہا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پیداوار فلپائن،انڈونیشیا ،ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی مجموعی صنعتی پیداوار سے زیادہ تھی اور وہی ملک بعد میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ گئے۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں اعتماد ہے کہ ہمیں سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی مسائل نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس ما ئنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ہے کہ لوگ آکر سرمایہ کاری کریں اس کے لیے ویزا سروس کو آسان بنایا جارہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ برطانیہ سے جب بھی میرے دوست شمالی علاقہ جات جاتے تھے وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ انہیں دوبارہ لے کر جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوئٹزرلینڈ سے دو گنا ہیں، دنیا کی بڑی چوٹیاں یہاں موجود ہیں،ابھی بھی کئی علاقے ایسے ہیں جن سے متعلق لوگوں کو علم نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے نئے علاقوں تک رسائی دی جائے گی اور ماحول کو خرابی سے بچانے کے لیے ٹاسک فورس موجود ہے جس میں مختلف شعبوں سے وابستہ افراد موجود ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کی بہت اہمیت ہے، یہاں مذہبی سیاحت کے 4 اہم سینٹرز موجود ہیں جن میں بدھ مت کی سب سے مقدس سیاحتی مقامات موجود ہیں جو ٹیکسلا میں ہیں، سکھ مذہب کے حوالے سے کرتار پور اور ننکانہ صاحب ہیں، ہندوازم کے قدیم مقامات ہیں جن میں کٹاس راج شامل ہے، اس کے ساتھ ہی صوفی ازم کے مقامات بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ساحلی سیاحت کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا گیا اس حوالے سے سرمایہ کاری لانے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے تاریخی شہروں جیسا کہ پشاور دنیا کا تاریخ ترین شہر ہے،موہنجو دڑو ،لاہور، ملتان تاریخی شہر ہیں ،اس حوالے سے ویب سائٹ بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں میں شہریوں کو سستے قرضےدیں گے تاکہ وہ اپنے گھر کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھی کوئی کمرہ بنا لیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کی 22 ارب ڈالر کی سیاحت ہے، جو صرف ساحل پر مبنی ہے، ترکی کی 40 ارب ڈالر کی سیاحت ہے جبکہ پاکستان کے پاس سیاحت کے 4 مختلف چیزیں ہیں، اس کے ساتھ ہی اسکیئنگ کی بہت بڑی جگہیں پاکستان میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور اگلے پی ایس ایل کے سارے میچز پاکستان میں ہوں گے۔اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آن لائن ویزا پالیسی کا اجرا نئے پاکستان کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں آج جو فیصلہ کیا گیا ہے کہ یقینا پاکستان نئے دروازے کھول رہا ہے اور ایک نئے اعتماد کا اظہار کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گھٹن جو ماضی میں دیکھی گئی آج قوم اس سے آزاد ہورہی ہے، گزشتہ 6 ماہ میں قوم نے دیکھا کہ وزیراعظم عمران خان کے انتخاب کی نذر اور ان کے فیصلے کی بدولت آج پاکستان میں ایک ایسی حکومت معرض وجود میں آئی ہے جو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چاہے خارجی امور ہوں،حکومت پاکستان کے موقف کی پاسداری کررہی ہے، چاہے داخلی امور ہووں وہ پاکستان کے مفادات کا دفاع کررہی ہے، چاہے معاشی اصلاحات ہوں وہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق جستجو کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحیح سمت میں چلنےکا ارادہ رکھتے ہیں،پاکستان کے عوام نے عمران خان اور تحریک انصاف پر اعتماد کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف پر پوری قوم کا بھروسہ ہے اور یہ جماعت پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہم اپنے اعتماد سے، دیانتداری سے مل کر ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی افواج کی بدولت اور عام پاکستانیوں کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت پاکستان پہلے سے زیادہ پرامن اور مستحکم ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی قوم نے جس انداز میں ہندوستان کی جارحیت کا عزم دکھایا ہے یہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ یہ پاکستان ماضی کے پاکستان سے مختلف ہے۔قبل ازیں نئی ویزا پالیسی کی خصوصیات بتاتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارخان آفریدی نے کہا کہ 175 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزا کی سہولت حاصل ہوگی جبکہ 50 ممالک کے شہریوں کو آن ارائیول ویزا جاری کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 96 ممالک کے شہریوں کو 24 گھنٹوں میں ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔شہریارخان آفریدی نے کہا کہ ابتدائی طور پر پائلٹ پروجیکٹ میں 5 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزا کی سہولت فراہم کی جارہی ہے جن میں برطانیہ،ترکی، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو مذہبی سیاحر کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت دی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ویزا فیس میں مجموعی طور پر 22 سے 65 فیصد کمی کی گئی ہے۔شہر یار آفریدی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب اور بحرین ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق تمام جدید تقاضے پورے کیے جارہے ہیں۔اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے گورنر پنجاب محمد سرور کو اراکین اسمبلی پنجاب کی تنخواہوں کی سمری پر دستخط کرنے سے روک دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی سمری روکنے اور گورنر پنجاب کو سمری پر دستخط نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مراعات سے متعلق بل دوبارہ اسمبلی میں لانے کا کہا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کو دی گئی لائف ٹائم مراعات کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، وزیر اعلی کو پوری زندگی کےلئے گھر دینے کا فیصلہ مناسب نہیں، وزیراعظم نے لائف ٹائم مراعات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپراظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے وزیراعلی، وزراءاور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اورمراعات میں اضافے کے فیصلے سے بہت مایوس ہوا ہوں، اس طرح کے فیصلوں کا کوئی دفاع نہیں کیا جاسکتا، عوام کوبنیادی ضرورتوں کی فراہمی تک فیصلہ نامناسب ہے، ملک میں خوشحالی ہوتو اس طرح کے فیصلوں کاجواز بھی بنتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری روکنے کی ہدایت کر دی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے گورنر پنجاب کو سمری پر دستخط سے روک دیاہے ۔ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے معاملہ گورنر پنجاب کے ہاتھ میں آگیاہے۔تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ گورنر پنجاب کے دستخطوں سے مشروط ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں کے معاملے میں گیند گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے کورٹ میں آگئی ہے۔تنخواہوں میں اضافہ گورنر پنجاب کے دستخطوں سے مشروط ہے۔ گورنر پنجاب نے بل پر دستخط کر نے سے پہلے وزیراعظم سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی تک گورنر پنجاب نے بل پر دستخط نہیں کئے ۔ گورنر پنجاب آئینی طور پر دس دن کے اندر بل دوبارہ غور کے لئے واپس اسمبلی کو بھجوا سکتے ہیں۔پنجاب اسمبلی اگر دوبارہ من عن بل پاس کر دے تو گورنر دستخط کر نے کے پابند ہونگے۔ اگر گورنر دس دن کے اندر بل پر دستخط نہیں کرتے تو بل از خود منظور تصور ہو گا۔

Read More
  • 498
Loading ···
No more