NewsHub

سعودی لڑکی کو برطانیہ میں پناہ دینے کیلئے پٹیشن پر 80 ہزار افراد کے دستخط

سعودی (ویب ڈیسک ) اہلِ خانہ سے فرار ہونے والی 18 سالہ سعودی لڑکی رھف محمد القنون کو برطانیہ میں پناہ دینے کے لیے 80 ہزار سے زائد افراد نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کر دیئے۔برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق چینج ڈاٹ او آر جی نامی ویب سائٹ پر دائر کی گئی پٹیشن میں برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ سے رھف محمد القنون کو پناہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر اب تک 80 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔مذکورہ پٹیشن 2 روز قبل رھف محمد القنون کی جانب سے جیرمی ہنٹ کو ٹوئٹر پر کی گئی درخواست کے بعد دائر کی گئی۔اس حوالے سے برطانیہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کی ترجمان نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے فکر مند ہیں اور اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔تاہم تھائی لینڈ کے امیگریشن چیف کا کہنا ہے کہ سعودی لڑکی کا معاملہ ان کے والد اور بھائی کی بنکاک آمد کے بعد پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ تھائی لینڈ پہنچ گئے ہیں اور رھف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔انسانی حقوق واچ کے ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹ سن کا کہنا تھا کہ ’خدشات ہیں کہ رھف محمد القنون کے اہلِ خانہ انہیں سعودی عرب واپس لے جانے کی کوشش کریں گے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’سعودی لڑکی کے والد کی آمد تشویش ناک ہے‘۔فل رابرٹ سن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اندازہ نہیں کہ کیا ہونے جارہا ہے، شاید وہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے یا اس کے لیے سفارت خانے کی مدد حاصل کریں گے‘۔خیال رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ میں گرفتار سعودی لڑکی کا معاملہ دیکھنے میں مزید کچھ دن لگیں گے جبکہ آسٹریلیا کی حکومت نے لڑکی کی حفاظتی پناہ لینے سے متعلق درخواست کو عالمی ادارے کے فیصلے سے مشروط قرار دیا تھا۔

Read More
  • 251
Loading ···
No more