NewsHub

سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کی شہادت کو 26 برس مکمل

ایودھیا (ویب ڈیسک)ایودھیا میں سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کی شہادت کو 26 برس مکمل ہو گئے لیکن اس کیس میں آج تک انصاف نہ ہو سکا جو سیکیولر بھارت کے چہرے پر طمانچہ ہے۔بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد مغل بادشاہ بابر کے دور میں 1528 میں میر باقی نے تعمیر کروائی تھی۔ایودھیا میں 1992 میں چھ دسمبر کے دن ہندوانتہاپسندوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا۔انتہا پسند ہندوﺅں کے ٹولے نے تمام قانونی، سماجی و اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تاریخی مسجد پر دھاوا بولتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کی شہادت کو 6 دسمبر کے دن 26 برس مکمل ہو گئے ہیں۔اس موقع پر ایودھیا میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور شہر میں اہم مقامات پر دو ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ایودھیا پولیس نے 6 دسمبر سے پہلے پورے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے گھروں کی چھتوں پر مورچے بنائے گئے۔ان مورچوں سے پولیس نے آنے جانے والوں کی نگرانی کی جب کہ ضلع بھر میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ایودھیا میں مسلمان تنظیموں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے مساجد پر کالے پرچم لہرائے جب کہ 26 برس مکمل ہونے پر ایودھیا میں ہندو تنظیموں نے مسلمان مخالف سائیکل ریلی نکالی جس کے باعث شہر بھر میں سخت خوف و ہراس پایا گیا۔بابری مسجد کی شہادت کو 26 برس بیت گئے لیکن مسلمان آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔بابری مسجد پر حملے اور بعد میں پھوٹنے والے فسادات میں ملوث بھارتی انتہا پسندوں کو آج تک سزا نہیں دی جا سکی اور نا ہی آج تک جگہ کا فیصلہ ہو سکا ہے۔آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) 2003 کے دعوے کے مطابق بابری مسجد کے نیچے ہندوں کے بھگوان رام کی جائے پیدائش کا مقام ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دعوے پر کھدائی کرنے والی ٹیم میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا گیا۔اے ایس آئی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں 574 صفحات کی رپورٹ جمع کروائی تھی۔اس کیس میں سنی وقف بورڈ نے مدعی بنتے ہوئے اس رپورٹ کو مبہم قرار دیتے ہوئے متنازع قرار دے دیا تھا۔ 2010 میں سنی وقف بورڈ کی جانب سے مقرر کی گئی دو آثار قدیمہ کی ماہرین سپریا ورما اور جیا مینن نے اے ایس آئی کی جانب سے کی گئی کھدائی کا دوبارہ سے جائزہ لیتے ہوئے پیش کی گئی رپورٹ پر کئی اعتراضات اٹھائے تھے۔لیکن اے ایس آئی کے اثر رسوخ کی وجہ سے یہ معاملہ سرد خانے کی نظر ہو گیا۔یہ تنازع سر اٹھانے پر پہلے مسجد بند کر دی گئی اس کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی سے جنونی ہندوﺅں جنھیں کار سیوک کا نام دیا گیا نے تاریخی مسجد پر دھاوا بول دیا۔ بھارتی حکومت حملہ آوروں کو روک نہ سکی۔صرف اس تاریخی مسجد کی شہادت پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ مسجد کے اطراف مسلمانوں کے گھر بھی جلا دیے گئے۔ فسادات میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں شہید ہوئے۔ بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے لیکن آج تک ان مقدمات پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

Read More
  • 140
Loading ···
No more