NewsHub

پشاور: دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، پولیس اہلکار شہید 2 دہشت گرد ہلاک

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے قریب ایک مکان میں چھپے دہشت گردوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 2 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

پولیس اور خیبرپختونخوا حکومت کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ رات تقریباً 9 بجے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔

پولیس چیف قاضی جمیل الرحمٰن جو اس آپریشن کی سربراہی کررہے تھے، نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن میں ایک اہلکار شہید ہوا، اس کے ساتھ انہوں نے مکان میں 3 سے 4 دہشت گردوں کے چھپے ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: سرچ آپریشن کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ آپریشن خفیہ اطلاع ملنے پر کیا گیا جس کے بعد پولیس نے گھر کو گھیرے میں لے لیا، انہوں نے وضاحت کی کہ اس گھر میں کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا۔

تتارا پولیس اسٹیشن کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے ایک بیان میں بتایا کہ پولیس کو ایک مکان میں ان دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملی تھی جو سینئر پولیس حکام اور حیات آباد میں پشاور ہائی کورٹ کے جج پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے، جس کے بعد مکان میں چھاپہ مارا گیا۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کے 3 لاپتہ پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد

انہوں نے مزید بتایا کہ چھاپے کے نتیجے میں دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی جس میں ایک پولیس اہلکار اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔

صوبائی وزیر کے مطابق مذکورہ آپریشن میں خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ ساتھ فوج کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک فوجی جوان بھی زخمی ہوا اور اس آپریشن کے دوران پولیس نے راکٹ سے چلنے والے 4 گرینیڈ بھی مکان پر فائر کیے۔

شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار گھر میں داخل ہو کر گراؤنڈ فلور کو کلیئر کررہے ہیں تاہم اب بھی اوپر کی منزلوں سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: صوبائی نشست کے امیدوار کے قافلے میں دھماکا

انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی گراؤنڈ فلور کلیئر ہوگا کمانڈوز بالائی منزلوں پر جائیں گے۔

دوسری جانب شہید پولیس اہلکار کی شناخت اے ایس آئی قمر عالم کے نام سے ہوئی جو انسدادِ دہشت گردی کا اسکواڈ کا حصہ تھا، شہید اہلکار کی لاش حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پہنچادی گئی۔

یاد رہے کہ 2017 میں حیات آباد میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں خیبرپختونخوا پولیس کے ڈپٹی چیف محمد اشرف نور کو قتل کیا گیا تھا۔

رواں برس فروری میں پشاور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج محمد ایوب مروت کی کار پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔

یہ خبر 16 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

Read More
  • 133
Loading ···
No more