NewsHub

حسیین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، جج ارشد ملک

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی اور استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کرائے گئے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلے دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش کی گئی، سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا کہ 2018 کے آغاز میں ناصر جنجوعہ نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حمایت میں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں رہا کرنے پر دباؤ ڈالا۔

مزید پڑھیں: ویڈیو تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا کہ ناصر جنجوعہ نے کہا تھا کہ ان کی ذاتی تجویز کی بنیاد پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے کیس کی وجہ سے اانہیں( ارشد ملک) احتساب عدالت میں جج تعینات کیا گیا تھا۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ جب انہوں نے رشوت قبول کرنے سے انکار کیا تو انہیں دھمکی کے طور پر متنازع ویڈیو دکھائی گئی جسے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی رہنما مریم نواز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں چلایا گیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جج نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں نواز شریف کے خلاف فیصلہ جاری کرنے پر دباؤ ڈالا گیا اور بلیک میل کیا گیا تھا۔

Read More
  • 494
Loading ···
No more