NewsHub

’نواز شریف توبہ کرلیں اور آدھا پیسہ دے دیں تو رہائی کی ضمانت دے سکتا ہوں‘

وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف توبہ کرلیں اور اپنے ’کمائے‘ ہوئے پیسوں میں سے آدھی رقم واپس کردیں تو وہ ان کی رہائی کی ضمانت لینے کے لیے تیار ہیں۔

سابق وزیراعظم کی رہائی سے متعلق سوال کے جواب میں اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف توبہ کرلیں اور جتنا ’کمایا‘ ہے اس کی آدھی رقم ہی لوٹا دیں تو میں ان کی رہائی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہوں۔

ملک کی سیاسی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ ’کیا حالت جنگ میں چھوڑ دیا جائے اور انہیں واپس ملک لوٹنے کی اجازت دے دی جائے؟‘

ملک میں جاری احتساب سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا ہی ہو رہا ہے کیونکہ یہ لوگ تو ’بغیر مال بنائے‘ ہی اندر جارہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے حکومت کے ساتھ اتحادی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان والے ہمارے ساتھ ضرور بیٹھے ہیں لیکن وہ بانی متحدہ کے نظریے کے ساتھ نہیں۔

’سابق آرمی چیف کے ساتھ مل کر 2008 میں مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ بنایا‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم عمران خان کی حکومت سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی پارٹی کا تسلسل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ اس کا تسلسل ہوتا تو پارٹی اس میں ضم ہوجاتی، لیکن میں تو کسی جماعت کا حصہ ہی نہیں رہا میں نے تو بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہوا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ 2008 میں اپنا استعفیٰ انہوں نے اس لیے دیا کیونکہ وہ اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نے مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم اس فیصلے کو بعد میں واپس بھی لے لیا گیا۔

خیال رہے کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نومبر 2007 میں آرمی چیف بننے سے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو جتوانے کا منصوبہ بنایا اور آرمی چیف نے مجھے نامزد کیا جبکہ مسلم لیگ (ق) کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈیل بھی انہوں نے ہی کروائی تھی اور پیپلز پارٹی کو جتوایا گیا۔

تاہم انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو منصوبے سے کچھ زیادہ سیٹیں ملیں۔

’مودی نے سیکولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل لگادی‘

کشمیر کے معاملے پر تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر میں بطور تاریخ کا طلبہ تجزیہ کروں تو بھارتی وزیراعظم مودی کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی شکست کھاگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی نے یہ اقدام اٹھا کر قائد اعظم محمد علی جناح کے بیانیے کو درست ثابت کردیا جبکہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی نظم کے مطابق ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ کی اس سیکولرزم کی دھجیاں اڑادیں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ مودی نے سیکیولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل بھی لگادی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ آج تک طاقت کے ذریعے حل نہیں ہوئے، جو بھی مسائل حل ہوئے ہیں اور مذاکرات کی میز پر ہی ہوئے ہیں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی سے کرفیو اترنے کے بعد لوگوں کا رد عمل آئے گا، تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ وادی میں احتجاج شروع ہوچکا ہے۔

’بھارتی اقدام پر پاکستان کے فوری ردعمل کا سہرا وزیراعظم، وزیر خارجہ کے سر ہے‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد تیزی کے ساتھ رد عمل دیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے رابطے کیے اور مسئلہ کشمیر کو دنیا میں پہنچایا جس کا تمام تر سہرا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ اب وہ وقت نہیں جب جنگیں فوجیں لڑا کرتی تھیں، اب جنگیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی وجہ سے بھارت دنیا میں تنہا ہوگیا ہے، سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت ہونا ہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور اس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ کشمیر اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں دنیا کو بتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور ہم نے کیا کیا ہے۔

بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کے موقف اپنانے پر اندرونی طور پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست کہنے کے بھارتی پروپگینڈے میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک جبکہ بھارتی ایک دہشت گرد ملک ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اِدھر کا کشمیر اِدھر اور اُدھر کا کشمیر اُدھر‘ کا کوئی تصور نہیں ہے، یہ ہماری شہ رگ ہے، ہمیں اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا ہے۔

’یو اے ای کے موقف پر کچھ نہیں کہہ سکتا‘

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر بیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ حکومتی اعزاز سے نوازنے کے سوال پر اعجاز شاہ نے کہا کہ یہ ان کی اپنی پالیسی ہے جس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چاہے یو اے ای کے حکمران کشمیر کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں لیکن وہاں کے عوام کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔

’رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ انہیں گرفتار کرنے والا اینٹی نارکوٹکس کا ادارہ ایک جنرل کی کمانڈ میں کام کرتا ہے، جس کا اپنا وزیر ہوتا ہے تو کیس ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ بغیر ثبوت لیگی رہنما کو گرفتار کرلے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں، جب ان کے خلاف کیس چلے گا تو سب ہی ان شواہد کو دیکھیں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایسی صورتحال میں کس طرح ایک شخص اپنی گاڑی میں منشیات لے کر جاسکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جب قانون کی بالادستی ختم ہوجاتی تو فطری بالادستی سامنے آجاتی ہے اور پھر جب پیسہ، غرور اور تکبر آجائے تو انسان سامنے کنویں کو دیکھ کر بھی چھلانگ لگادیتا ہے۔

’عرفان صدیقی کی گرفتاری میں میرا کوئی ہاتھ نہیں، انہیں میں نے چھڑوایا‘

انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کی گرفتاری میں اپنے کردار سے متعلق تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میرے احکامات پر گرفتار ہونے والا شخص باہر آجائے تو مجھے پکڑ لیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اعجاز شاہ نے کہا کہ عرفان صدیقی کے کیس کو مس ہینڈل کیا گیا تاہم میں نے سابق وزیراعظم کے مشیر کو چھڑوایا ہے۔

’دھرنا دینے والوں کو کنٹینرز اور پانی فراہم کریں گے‘

ایک سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ جو قانون کے مطابق دھرنے دیں گے انہیں کنٹینرز دیں گے اور پانی بھی دیں گے۔

انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر کسی نے پر تشدد مظاہرے کیے تو ان کی ’چھترول‘ بھی کی جائے گی۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر ڈی چوک پر تحریک انصاف کی طرح دھرنا دینا چاہیں تو ہم ان کی خوش آمدید کہیں گے، یہ لوگ اپنی موت خود مرجائیں گے۔

’اسکول کے بچوں کی قربانی نے سیاست دانوں کو جگایا‘

نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں اس طرح کا کوئی پلان نہیں تھا، تاہم آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے قربانی دے کر سیاست دانوں کو جگایا ور یہ این اے پی عمل میں لایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ این اے پی 4 سال تک سابق وزرائے اعظم کی ٹیبل پر موجود رہا، تاہم موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

Read More
  • 279
Loading ···
No more