NewsHub

مسلم لیگ (ن) کا نواز شریف کی سزا کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فیصلے کو بھی کالعدم قرار دینے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مبینہ ویڈیو تنازع کے بعد احتساب عدالت کے جج کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز اور ترجمان مریم اورنگزیب نے ردعمل دیا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز نے جو ویڈیو دکھائی وہ جعلی اور مفروضوں پر مبنی ہے، جج ارشد ملک

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ کالعدم ہوچکا ہے، لہٰذا جج کے ہٹنے کے بعد نواز شریف کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو جیل میں ایک منٹ بھی رکھنا اب غیر قانونی ہے، سچائی ثابت ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں ویڈیو اور اس سے جڑے تمام حقائق سچ ثابت ہوگئے ہیں، لہٰذا نواز شریف کے خلاف دباؤ کے تحت دیے گئے فیصلے کالعدم قرار دیئے جائیں۔

ادھر مریم نواز نے سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ کا شکر!، مگر معاملہ کسی جج کو معطل کیے جانے کا نہیں بلکہ اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو جج نے دیا‘۔

انہوں نے لکھا کہ معاملہ کسی جج کو عہدے سے نکالنے کا نہیں، اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے جو جج نے دباؤ میں دیا اور معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں بلکہ اس فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لے آئیں

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے ایک اور ٹوئٹ میں سوال کیا کہ ’جج کو فارغ کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ معزز اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا، اگر ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرار رکھا جارہا ہے جو جج نے دیا؟‘۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ’اگر فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنا دی ہے تو بےگناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی جنہیں انہی جج نے سزا دی؟‘

ٹوئٹر پر ایک اور ٹوئٹ میں مریم نواز نے سوال کیا کہ ’اگر ایک جج غلطی کا مرتکب پایا گیا ہے اور انہیں اپنے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے تو اس غلطی کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف 3 مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے پاکستان کے پہلے اور واحد شخص ہیں، وہ آج بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا صرف جج کو فارغ کردینا کافی ہے؟ ہر گز نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے گزارش کی کہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائےاور نواز شریف کو انصاف فراہم کرتے ہوئے بغیر کسی تاخیر کے رہا کیا جائے۔

لیگی نائب صدر نے لکھا کہ اب یہ معاملہ نواز شریف تک محدود نہیں رہا، وہ انصاف کے لیے اعلی عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز نے جو ٹیپس پیش کیں ان کی فرانزک جانچ کرائیں گے، فردوس عاشق اعوان

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تصدیق ہوگئی کہ جج سے متعلق ویڈیو اصلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج نے تسلیم کرلیا کہ دباؤ میں فیصلے کیے، لہٰذا جج کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ کی قانونی حیثیت بھی خود ختم ہو گئی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جج کو ہٹانے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مریم نواز جو حقائق عوام کے سامنے لائیں وہ درست ہیں۔

Read More
  • 687
Loading ···
No more