NewsHub

پنجاب کے 5 اضلاع میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

صوبہ پنجاب کے 5 اضلاع فیصل آباد، چنیوٹ، ساہیوال، جھنگ اور ننکانہ میں ایچ آئی وی کے مرض کا شکار افراد میں اضافہ خطرناک شرح تک بڑھ گیا ہے اور اس وقت ان علاقوں سے 2800 سے زائد مریض مفت ادویات کے لیے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (پی اے سی پی) کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مریضوں میں سے زیادہ تر کو اپنی حالت کے بارے میں خون عطیہ کرنے، بیرون ملک جانے یا سرجری سے گزرنے سے قبل کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔

مزید پڑھیں: لاڑکانہ کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو (ایڈز) ہونے کا انکشاف

تاہم ان علاقوں میں ایچ آئی وی کے اس طرح کے زیادہ کیسز سامنے آنے کے باوجود یہ پریشان کن ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک ایچ آئی وی مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی اسکریننگ کیمپ نہیں لگایا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ رتو ڈیرو میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیس صوبائی حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بنے اور اسی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں متعلقہ انتظامیہ نے خود کو بچانے کے لیے اس معاملے پر روشنی نہیں ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ پی اے سی پی کے متعلقہ اسٹاف کو مرض سے متعلق بڑے اعدادوشمار کے حوالے سے معلومات کے لیک ہونے کے خلاف سختی سے خبردار کیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں حکام کی زبانی ہدایات پر الائیڈ ہسپتال میں پی اے سی پی حکام باضابطہ طور پر مریضوں کی تعداد بتانے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی یہ بتانے کو تیار تھے کہ یہ مریض کن علاقوں سے آئے اور کس طرح انہیں وائرس ہوا۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے اس تمام صورتحال پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ علاقوں میں اتائیوں کے خطرے کو دیکھنے میں ضلعی انتظامیہ کی ناکامی پر شدید تنقید کی، ساتھ اسے اس خطرے کو ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔

اس حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے ڈاکٹر صولت نواز کی سربراہی میں پی ایم اے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) پر اتائیوں کو اجازت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وقفے وقفے سے اتائیوں کے خلاف نام نہاد آپریشنز صرف متعلقہ حکام کی ماہانہ رشوت میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد میں ایچ آئی وی کے 140 مثبت کیسز حکومتی توجہ حاصل کرنے میں ناکام

ذرائع نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی جانب سے ایچ آئی وی/ایڈز مریضوں کی سرجری سے انکار کرنے کی مشق بھی اس بیمارے کے پھیلنے کی وجہ ہے۔

ایسے مریضوں کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ نجی ہسپتالوں تک رسائی حاصل کریں جہاں انہیں خون کی اسکریننگ کے بغیر آپریشن کے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں وائرس دیگر مریضوں میں پھیلتا ہے جو ان نجی ہسپتالوں میں کمزور طریقے سے جریحی آلات کے ذریعے سرجری سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

Read More
  • 301
Loading ···
No more