NewsHub

کس کس کو سمجھائیں

Posted on January 9, 2019 By Majid Khan کالم

Imran Khan

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

آجکل میرا حال بالکل عمران خان جیسا ہو گیا ہے اس کو بھی بیوی اور ٹی وی سے پتہ چلتا ہے اس کی حکومت آ گئی ہے مجھے بھی کوئی نہ کوئی روزانہ میسج کر کے یہ یاد دلاتا ہے کہ میری پارٹی کی حکومت آگئی ہے لہذا اب مجھے ایک جادو کی چھڑی ہاتھ میں لے لینی چاہیے مہنگائی، بد امنی ،بیروزگاری ،لوٹ کھسوٹ ،رشوت سفارش ،لوڈ شیڈنگ ،سب یوں چٹکی بجاتے ختم ہو جائیں ہر شخص کے پاس ایک بنگلہ ہو موٹر کار ہو ،روزگار ہو دن عید ہو رات شبرات ہو سردیاں ہیں راتیں ویسے ہی لمبی ہوتی ہیں اور خواب دیکھنے پر کوئی آج تک پابندی نہیں لگا سکا او بھائیو یہ زندگی موبائل کا پیکج نہیں جو آپ روزانہ حاصل کر لیتے ہو ۔۔۔۔۔

سچ پوچھیں تو پہلے تو میرا تراہ نکل جاتا ہے جب میں سنتی ہوں میری حکومت آگئی ہے نہ میرے پاس کوئی سیٹ ہے نہ عہدہ نہ کسی وزیر مشیر کا نمبر عمران خان کے ساتھ کھچوائی گئی ایک سیلفی تک نہیں جسے بوقت ضرورت کیش کرا سکوں اللہ گواہ ہے جتنا کام کیا ہے بے لوث اور بغیر کسی صلے کی تمنا کے کیا ہے اپنے پاکستان کے لیے کیا ہے میں تو وہ بندی ہوں جس نے اپنے شوہر سے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی لیکن اب لگتا ہے عمران خان کی طرح مجھے بھی کشکول اٹھانا پڑے گا اس نے بھی اپنی ذات کے لیے نہیں اس عوام کے لیے ملک ملک ہاتھ پھیلایا ہے جس ملک اور اس کی عوام کو نواز ،زرداری لوٹ لوٹ کر کھوکھلا کر گئے ہیں عمران نے اس ملک کو عظیم بنانے کا خواب دیکھا تھا اور میرے جیسے لوگ اس خواب میں شامل ہو گئے کسی نے گالیاں کھائیں کسی نے گولیاں کھائیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے اب جب کہ دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا ہے لوگ مخالفین کے جھانسوں میں آنے لگے ہیں ان کی چلائی مہم سے بڑے بڑے تناور درخت اکھڑ رہے ہیں تو گھاس پھوس کی تو بات ہی کیا ہے اوپر سے انصاف لڑکھڑا رہا ہے کہیں سارا کچھ ہی اس کے نیچے نہ دب جائے اس ملک میں ویسے بھی آئین و قانون طاقتوروں کی غلامی میں رہے ہیں پہلی بار ایک آس لگی تھی لیکن وہ بھی انائوں کی بھینٹ چڑھتی نظر آ رہی ہے خدا نہ کرے جو ریورس گیئر لگے اس کے لیے ہمیں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو نظر انداز کرنا ہو گا۔

اب ایسا سبز باغ دکھانے والا شعبدہ باز نہیں ہے جو اربوں لوٹ کے جلسوں میں کہتے تھے جیبیں بھر کے لایا ہوں بھئی جیبیں بھر کے خالی ہاتھ نہیں آیا مانگو کیا مانگتے ہو ایئر پورٹ ،میٹرو بسیں ،موٹر ویز پیلی ٹیکسی گلابی رکشہ ،اورنج لائن ٹرین کا حال تو آپ سب نے سن ہی لیا ہے چلائو تو خسارہ نہ چلائو تو عذاب پانچ لاکھ ڈالر روزانہ سود بھرو ،ایسے کئی منصوبے ہیں جن کی صرف پھٹیاں قوم کو اربوں کھربوں میں پڑی ہیں۔

ہم تو اپنے ملک کی عزت چاہتے ہیں بیرون ملک گرین پاسپورٹ کو کوئی خونی نظروں سے نہ دیکھے ہمارے وزیر اعظم کی پینٹ نہ اتاریں یہ نہ کہیں پاکستانی تو پیسے کے لیے اپنی ماں بیچ دیتے ہیں لیکن ان پاکستانیوں کی رگ رگ میں حرام مال کا زہر اس قدر سرائیت کر گیا ہے کہ اب وہ معقول بات سننے کو تیار نہیں میں بھی وزیر اعظم سے کیسے کہوں خدا کے لیے ایک نظر اندر بھی ڈال لو بجلی گیس اور دو تین چھوٹے چھوٹے مطالبے ہیں جن کے پورا کرنے سے غریب لوگ خوش ہو جائیں گے عمرہ فیس پر بیس ہزار ٹیکس ختم کر دیں اس ریلیف کا آپنے وعدہ کیا تھا اپنے ان ناسوروں پر بھی چیک رکھو جو استین کے سانپ ہیں یہ قوم صبر بھی کر لے گی خان صاحب آپ کے وعدوں کا انتظار بھی کر لے گی کیونکہ سب کچھ اتنا مایوس کن بھی نہیں لیکن لٹیرے بھی پورا زور لگائے ہوئے ہیں آپنے منڈوا اپنے ہاتھ میں نہیں رکھا وہ لوگوں کو ہارر فلمیں دکھا رہے ہیں ہم جانتے ہیں آپ کے ہاتھ بندھے ہیں لیکن اللہ توکل اور نیک نیتی آپکا سب سے بڑا اثاثہ ہے اس پر ڈٹے رہیں آنکھیں اور کان کھلے رکھیں یہ سارا پراپیگنڈہ اپنی موت آپ مر جائے گا انشا اللھ یہ مافیا کی آخری چیخیں ہیں بہت لوگ ہیں جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ملک صحیح سمت جا رہا ہے ایک پروگرام میں سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ سے اینکر نے سوال کیا کہ شہزادے کے آنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوا ؟ سلمان شاہ نے کہا پوزیٹو سائن اس سے بیرون ممالک کو یہ سگنل جائے گا پاکستان انویسٹ منٹ کے لیے موزوں ترین ملک ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم سے ملنے کا عندیہ دیا ہے انہوں نے اور سائوتھ کیرولینا کے ایک سینٹر نے پاکستان کو فری ٹریڈ ایگری منٹ دینے کی بات کی ہے امریکہ اور چائنا دو بڑی اکانومی ہیں اگر آپ ان کے ساتھ فری ٹریڈ ایگری منٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی اکانو می میں ریڈ ہاٹ قسم کی گروتھ ہو گی بنیادی بات گروتھ ہے اپر چونٹیز تو ان لیمیٹڈ ہیں اینکر کے اس سوال پر کہ دو بڑی پارٹیز یعنی پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی دونوں کہہ رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اکانومی خراب کر دی ہے تو کیا وہ دونوں غلط کلیم کر رہی ہیں سلمان شاہ کا جواب تھا بالکل غلط کر رہی ہیں 2007میں انویسٹ منٹ جی ڈی پی ریشو 24فیصد تھی جو کہ زرداری حکومت آنے کے بعد گر کر 12پرسینٹ پر آگئی اور اس کے پورے دور میں بارہ تیرا کے درمیان ہی گھومتی رہی پی ایم ایل این کی حکومت آنے کے بعد بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا بارہ تیرہ ہی رہی لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں چودہ پندرہ تک پہنچ گئی ہے گو ابھی ہم 2007کے لیول تک نہیں پہنچے حکومت کو چاہیے انویسٹمنٹ جی ڈی پی 30تک لے جائے مثبت قسم کی پراگریس ہو رہی ہے وال سٹریٹ جنرل میں ایک کالم چھپا ہے کہ پاکستان میں انویسٹ منٹ کی پوسیبیلٹی موجود ہے تو ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہوئے پاکستانیوں کو بھی اپنی حکومت کا ساتھ دینا ہو گا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ تیرہ سو کا سیلنڈر دو ہزار میں بک رہا ہے فلاں چیز اتنے میں بک رہی ہے۔

فلاں اتنے میں تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس ملک میں دو سو روپے کلو بکتے ٹماٹر بھی ہم نے خریدے ہیں تاجر اور ناجائز منافع خور ہمیشہ موقع کی تاک میں ہوتے ہیں ان میں بہت سے اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں عوام کو چاہیے ایسے ظالموں کی نشاندہی کرے جو اپنے آقائوں کے کہنے پر یہ جرم کر کے ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں جیسے ایک شخص مظفر آباد سے کوہالہ کی طرف جا رہا تھا تو اس نے دیکھا ایک شخص سڑک کے کنارے لگی رکاوٹوں کو اتار رہا ہے یہ وہ ریلنگز ہوتی ہیں جو گاڑیوں کو کھائیوں میں گرنے سے روکتی ہیں تاکہ گاڑیاں حادثے کا شکار نہ ہوں سبلوگ گذر رہے تھے کوئی نوٹس نہیں کررہا لیکن یہ شخص پلٹ کے واپس آگیا اس نے پوچھا کیوں اتار رہے ہو ؟اس نے اس کا شناختی کارڈ نمبر لکھ لیا وہ نٹ بولٹ بھی دکھائے جو اس نے کھول کے ریلنگز اتاری تھیں اس نے بتایا کہ مجھے کسی ٹھیکیدار نے کہا ہے میں یہ اتار کے اسے لا دوں تہ وہ مجھے پیسے دے گا اب یہ بات صحیح ہے یا غلط لیکن کتنے نقصان کی بات ہے جب رکاوٹیں نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں نیچے جا گرتی ہیں اور کتنے لوگ جانیں گنوا بیٹھتے ہیں چند پیسوں کی خاطر لوگ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ شعور یہ جرات اس قوم کو عمران خان نے دی ہے اس کے کپڑوں اس کی ڈریسنگ اس کی کنجوسی پر بات کرنے والے صرف اتنا بتا دیں کیا عمران خان نے قوم کا پیسہ اپنے اوپر خرچ کیا؟نہ دو سو اٹالین سوٹ بنوائے نہ ان کی میچنگ ٹائیاں خریدیں نہ ہر جوڑے کے ساتھ شوز لیے جو شخص اپنے عیش عشرت چھوڑ کے دن رات قوم کی بھلائی سوچ رہا ہے اس کو میں کیسے برا کہوں ؟

Mrs Khakwani

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

Read More
  • 635
Loading ···
No more