NewsHub

یہ وقت بھی گزر جائے گا

Posted on June 12, 2019 By Majid Khan تارکین وطن, کالم

Supreme Court

تحریر : شاہ بانو میر

ومن یقنت 22
سورة فاطرِ مکیة 35
رکوع 14
( بھلا کچھ ٹھکانہ ہے اس ِشخص کی گمراہی کا )
جس کے لیے اُس کا بُرا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو
اور
وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ
اللہ جسے چاہتا ہے
گمراہی میں ڈال دیتا ہے
اور
جسے چاہتا ہے
راہِ راست دکھا دیتا ہے
آج کا دن تہلکہ خیزی کے ساتھ نمودار ہوا
لیکن
کیا یہ ملک منقسم ہے ؟
کیا کسی سیاستدان سے کسی الزام پر
پوچھ گچھ
سیاسی محاذ آرائی کا باعث بننی چاہیے؟
اور
کیا کسی الزام پر اس تفتیشی عمل کو
مخالفین سیاست کو ہرزہ سرائی کرنی چاہیے؟
یاد رکھیں
اداروں کی تفتیش عمارتوں کے اندر
اور
بحث سر عام کی جائے گی
کارکردگی پر سوالات ضرور اٹھیں گے
پھر
اگر کوئی ایکشن لیا گیا ہے
اس پر ایک جماعت مضحکہ خیزیت پر مبنی پھبتیاں کسے
اور
دوسرے کارکنان رہنما خجالت میں مبتلا ہوں؟
یہ کہاں ہوتا ہے؟
صرف ایسے ممالک میں جہاں
سیاست ابھی پختہ نہیں ہے
بچگانہ نا پختہ سیاستدان ہنگامہ آرائی
شور شرابے تذلیل کرنے کا کوئی موقعہ
ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتے ہوں
کیسی ہے یہ اسمبلی کیسا ہے یہ نظام؟
اس جماعت کے آنے کے بعد تو
سوالات نے اپنی موت مر جانا تھا
صرف سکون کا امن کا کامیابی کا
دور دورہ ہونا تھا
افسوس
ذمہ داریوں سے نابلد رہنما بڑی سوچ ضرور رکھتا ہے
مگر
بنیادی معمولی چھوٹی سچائیوں سے نا آشنا ہے
اس کی انجان طبیعت نے ملک میں
کام سکون سے خاموشی سے ہونے تھے
ان سب کو کرکٹ کی ہیجان خیزی میں بدل دیا
یہ ملک اور اس کے لوگ
ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے میچ کے منتظر شائقین نہیں تھے
یہ تو بیچارے ادھ موئے نڈھال مایوس منتظر تھے
عمران نامی مسیحا کے
مگر
میسحا نے ان پر رحم کھانے کی بجائے اپنےانداز میں جارحانہ
اننگز کا آغاز کیا
ٌاپنی منزلیں اپنے اہداف
ملک میں مزاج کو بد مزاجی کی سطح ملی
لحاظ مروت کا خاتمہ ہوا
محاذ آرائی کیا شخصیات اور کیا ادارے
ایک طوفان بد تمیزی کا عالم ہے
انصاف کو بے مول کر کے زبان زد عام کر کے
عدالتوں کا تقدس احترام سب بے مول کر دیا
ہر پیشی پر سامنے مشیر صاحبہ میک اپ اسٹک مکمل ختم کر کے
اسکرین پر جلوہ افروز ہوتیں
کون ہیں یہ سب عدالتوں پر مشورے دینے والے؟
عدالتیں جانیں ان کے کام جانیں
کیسے کسی کو جرآت ہو ہر عدالتی پیشی کے بعد
باہر ایک اور بڑی عدالت عۤظمیٰ لگانے کی؟
اداروں کو تقویت دینے کا وعدہ تھا
غیر جانبداری سے
آج اگر کسی ایک جانب
غم کی شام ہے تو
امید سحر بھی تو آکر رہے گی
نہ کسی کو اس دن شادیانے بجانے کی ضرورت ہے
اور
نہ ہی اپنی قابلیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کی
اہل دانش جانتے ہیں
کہ
اصل میں ہو کیا رہا ہے
مشہور روایت ہے
کہ
ایک بادشاہ نےاپنے
غلام سے کہا
اسکو ایسی چیز پیش کرے
کہ
وہ غم میں دیکھے
تو خوش ہو
اور
خوشی میں دیکھے تو
تکبر سے بچے
کہتے ہیں کہ
اس کے غلام نےاس کو
ایک انگوٹھی بنوا کر دی
جس پر تحریر تھا
“” یہ وقت بھی گزر جائے گا “”
اور
واقعی ایسا ہی ہوا کہ
بادشاہ اس کو خوشی میں دیکھتا
تو سنبھل جاتا
اور
غم میں دیکھتا تو خوش ہوتا
کہ
یہ وقت نہیں رہے گا
آجکل اس انگوٹھی کی ضرورت
میرے پیارے وطن میں دونوں جانبین کو ہے
پے درپے وکٹیں اڑتی دیکھ کر
سیاسی کھلاڑی جوش مسرت سے
بے قابو ہو رہے ہیں
اور
دوسری جانب اسیرِ زنداں پژ مردہ ہیں
پارہ 9
میں حضرت موسیٰ سے
اللہ پاک فرماتے ہیں
فرعون جب تمہارے بیٹوں کو
قتل کرتا تھا
اور
بیٹیوں کو زندہ چھوڑتا تھا
“”اس میں تمہارے رب کی طرف سے
تمہارے لیے بڑی آزمائش تھی “”
آزمائش ہمیشہ آتی ہے
مگر
اللہ آزمائش میں ڈالتا انہی کو ہے
جن سے وہ راضی ہو
ان سے اپنا کوئی کام لینا چاہتا ہو
آج اگر کچھ لوگ آزمائش میں مبتلا ہیں
کرنا کیا ہے؟
اسی انگوٹھی کی عبارت کو یاد رکھنا ہے
“” یہ وقت بھی گزر جائے گا “”
گردش لیل و نہار کا سلسلہ
روز ازل سے چل رہا ہے
آج یہ ہیں کل کوئی اور تھے
اور
آنے والے دنوں میں کل کوئی اور ہوں گے
نظام اور وہ بھی پاکستان کا
اس کو بدلنا اتنا آسان نہیں
سیاسی اسیران تو ہمیشہ ہی اس ملک کے
جیلوں میں جا کر ناموری کماتے رہے ہیں
ان بڑی گرفتاریوں پر حیرت کسی کو نہیں ہوئی
اس وقت کی قیادت مخالفین کی گرفتاریوں پ
خوش ہو نہیں سکتی
نحیف اور لرزیدہ نظام کو تھامے
خس و خاشاک کی طرح لرز رہے ہیں
اس تبدیلی کو لانے تک یہ مجہول نظام قائم رہے گا
یہ بھی ابھرتا ہوا ذہنوں میں سوال ہے
ملک میں سیاسی ابتری پھیل چکی ہے
نامور قیادت پابند سلاسل ہو چکی
یا کر دی گئی ہے
یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے
ملک اور اس کی سیاسی سوچ
ابھی اتنی پختہ نہیں ہے
کہ
سیاسی مفکرین مدبرین اتنے بڑےسیاسی خلا میں
خود کو قائم رکھ سکتے ہیں؟
وقت بدلے گا
یہ تو ہم سب جانتے ہیں
پاکستان کا آزمودہ برسوں پرانا انداز ہے
سیاسی حبس زدہ موسم ہمیشہ نہ رہا ہے
اور نہ رہے گا
حکمت مصلحت اور متوازن نظام کی صرف ایک صورت ہے
حکومت وقت رعونت اور تکبرکے مظاہرے کرنے سے پرہیز کرے
شیخ رشید اور فردوس ع ا سامنے نظر آنے سے احتراز برتیں
یہ کی سلامتی اور عین مفاد میں ہوگا
نیب کے نا مکمل شواہد پر بڑی گرفتاریاں
کرنے کے بعد
عدالت میں مؤثر ثبوت پیش کرنے میں قاصر رہتا ہے
تو ملک میں کیسا بھونچال آئے گا
اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملے گی
بات وہی ہے
ملک کا نظام اندر سے باہر سے دو انتہاؤں کے درمیان ہے
رسہ کشی میں نقصان کہیں ملک کا ہوا
تو
ذمہ دار بننے سے کون بچ سکے گا؟
اس وقت نہ تو گرفتار ہونے والے پریشانی میں
اتنے مایوس ہوں کہ
امید کا دامن ہی ہاتھ سے چھوڑ دیں
اور
ایسی گفتگو کریں جو ملک کے لئے نقصان دہ ہو
اور
دوسری طرف اہل اقتدار اپنا بچگانہ غیر ذمہ دارانہ رویہ
الفاظ کے تیر گھائل لوگوں پر نہ چلائیں
کہ
ان کی وجہ سے ملک کسی اندرونی خلفشار میں الجھ جائۓ
پی ٹی آئی کو اب اہل اقتدار بننا ہے
کیونکہ
ہمارے بڑے کہتے تھے
دشمن مرے تے خوشی نہ کرنا
سجناں وی مر جانا
کل اس ملک کا کتنا مختلف ہو
کون کہاں ہو
اور
کون یہاں ہو ہی ناں
اس سوچ کے ساتھ زخمی دل
سوچ میں امید لائیں
اور
مثبت سوچ کے ساتھ کوشش جاری رکھیں
جبکہ
اہل اقتدار خاص طور سے وزراء حضرات
اور
شیخ رشید فواد چوہدری شیخ رشید
عام مناظرے اور منظر عام پر آنے سے
ملک کے وسیع تر مفاد میں گریز کریں
ملک کو کاٹنے توڑنے بانٹنے والے بہت ہیں
اس
ملک کی خاموش فریاد کو
اس کے لہو لہو رستے وجود
پر مرہم رکھنے والا
اس کا نوحہ سننے والا کوئی نہیں
آئیے
شکست خوردہ ہیں تو بھی
اور
اگر جیت کے نشے میں چور ہیں
تو بھی
ایک نگاہ اس انگوٹھی پر ڈال لیتے ہیں
جس پر کندہ ہے
کہ
یہ وقت بھی گزر جائے گا
شعور نے باشعور کر دیا تومطلب سمجھ لیں گے
اور
مطلب سمجھ آ گیا
تو ہم دیکھیں گے
اس ملک میں ٹھہراؤ
دلیل اور مثبت سیاست کو فروغ ملے گا
یوں بنے گا
نیا کامیاب مستحکم پاکستان

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر

Read More
  • 707
Loading ···
No more