NewsHub

کانوں کی صفائی کے لیے یہ سلائی کبھی استعمال مت کریں

اگر آپ کانوں کی صفائی کے لیے کاٹن سواب یا روئی کی سلائی کا استعمال کرتے ہیں تو اس عادت کو ترک کردینا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ برطانیہ میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے کانوں کی صفائی کے لیے روئی کی ان سلائیوں کا استعمال کیا تو اسے جان لیوا انفیکشن ہوگیا جو نہ صرف سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بننا بلکہ وہ دماغی تک پھیل گیا۔

اس 31 سالہ شخص کو اس مسئلے کا سامنا اس وقت ہوا جب اس سلائی سے روئی اس کے کان کے پردے میں پھنس گئی۔

اگرچہ کچھ مقدار میں روئی کا کان میں رہ جانا بظاہر بے ضرر لگتا ہے مگر اس معاملے میں یہ تباہ کن ثابت ہوا کیونکہ اسے شدید بیکٹریل انفیکشن کا سامنا ہوا جو کان کے پردے سے پھیل کر کھوپڑی تک پہنچا اور پھر دماغ تک جاپہنچا۔

اس کے بعد ڈاکٹر نے آپریشن کرکے روئی کو نکالا اور مریض کو ایک ہفتے تک ہسپتال میں گزارنا پڑا جبکہ 2 ماہ کے لیے ادویات کے کورس سے بھی گزرنا پڑا جس کے بعد اب سے سننے یا سوچنے کے مسائل کا سامنا نہیں۔

اس سے قبل بھی ایک طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کان صاف کرنے والی یہ سلائی استعمال کرنا درحقیقت بڑی غلطی ہے، کیونکہ کان میں جمع ہونے والا مواد نقصان دہ نہیں ہوتا۔

عام طور پر جب کوئی شخص اس سلائی کو کان کے اندر ڈالتا ہے تو وہ مواد یا میل کو زیادہ صاف نہیں کرتا بلکہ اسے دھکیل کر پردے کی جانب لے جاتا ہے۔

کان کے پردے کو آواز کی ارتعاش یا وائبریشن کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آپ اس مواد کو قریب لے جاتے ہیں تو قوت سماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہاں تک کہ متعدد ممالک میں ان کاٹن سواپ کے ڈبوں پر یہ وارننگ بھی ہوتی ہے ' اسے اپنے کان کے اندر نہ ڈالیں'۔

مریکن اکیڈمی آف Otolaryngology نے اس حوالے ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان سلایوں کو کسی صورت کانوں کی صفائی کے لیے استعمال نہ کریں۔

ہدایات کے مطابق ' اس سلائیوں میں لگی روئی کانوں کے اندر الگ ہوسکتی ہے اور ایسا ایک کیس بھی سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص کو دماغی طور پر نقصان پہنچا'۔

واضح رہے کہ کان میں جمع ہونے والا مواد ایک حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے جو کان کے پردے کو کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کا کام کرتا ہے۔

اسی طرح محققین کا کہنا ہے کہ کان کا مواد تیزابی ہوتا ہے جو فنگس کو کان کے اندر پھیلنے سے روکتا ہے جبکہ اس میں بال، مٹی اور مردہ جلد کے ذرات بھی پھنس جاتے ہیں جو کسی طرح کان تک پہنچ جاتے ہیں۔

Read More
  • 458
Loading ···
No more