NewsHub

منصف بھی مشکوک

Posted on July 11, 2019 By Majid Khan تارکین وطن, کالم

Imran Khan

تحریر : شاہ بانو میر

مِرا نشیمن بکھر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے
جو خواب زندہ ہے مر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے
عجب سی ساعت ہے آج سر پرکہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دُعا کہیں بے اثر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے

آج پوری دنیا میں میڈیا کیا لکھ رہا ہے
روس ہے یا امریکہ کیا کہہ رہے ہیں؟
ہم نے دورہ کی دعوت نہیں دی
ہمیں وائٹ ہاؤس سے کنفرم کرنا ہے ؟
حالانکہ
دورہ ضرور ہوگا
لیکن کیا
آپ کنٹینر پر ہی چڑھے رہیں گے
یا
سفارتی راز رکھنا بھی سیکھیں گے
یا
فوری طور پر پوائنٹ اسکورنگ کرنی ہے
کہ
بس سب کو پتہ لگ جائے امریکہ جا رہا ہوں
یہی بے پرکی خبریں پیرس ائیر شو میں دیکھنے میں آئیں
سوشل میڈیا ٹیم نے نجانے جے ایف تھنڈر پر کیا کیا بیان بازی کی ؟
حکومتی ادارہ تردید کرتا رہا کہ
جے ایف تھنڈر کو کوئی پرایز نہیں ملا
نہ ہی کسی اور کو پرائز ملا ہے
کیونکہ
یہ ڈسپلے شو ہے

ابھی ٹی وی پر آئی ایم ایف کا بیانیہ چل رہا ہے
کہ
بجٹ ہمارا پیش کردہ تھا
ایک سو پچاس ارب کے ٹیکسسز پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے
جبکہ
اصل حجم ایک سو ستر ارب ہے
میرے کانوں میں آواز گونجی
“”نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ہے
یہ صادق اور امین نہیں ہے””
دوسری جانب اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کے لئے
پروڈکشن آرڈرز کو زائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
تمام کمیٹیوں کے اجلاس قومی اسمبلی کے اجلاس سے مشروط کر دیے گئے
کیا نوٹنکی ہے؟
کل تک علیم خان نیب کی حراست میں تھے
تو 101 دنوں میں 190 دن وہ چار کمیٹیوں کے ممبر بنتے ہیں
اور رات ساڑھے دس بجے تک
صوبائی اسمبلی میں موجود رہتے تھے
پھر
رات کو دیر سے صرف سونے نیب کی حراست میں چلے جاتےہیں
ان کا کچن ان کے ساتھ اسمبلی میں ہوتا ہے؟
جیسے ہی وہ رہا ہوتے ہیں
فوری طور پر تمام کمیٹیوں سے مستعفیٰ ہوتے ہیں
یہ کیا ہے؟
آپکا کتا ٹامی اور ان کا کتا صرف کتا
ایسے نہیں چلے گا
حکومت کے لئے گالی گلوچ ہر زبان پر ہے
بد دعائیں ہر عورت دے رہی ہے جس کے بچے بھوک سے بِلک رہے ہیں
نیا پاکستان بننے سے پہلےہی
میرا نشمین پاکستان
بکھر رہا ہے
صرف آپ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے
اک نگاہ ڈالیں
پاکستان کا شیرازہ بکھر رہا ہے
ہر طرف جیسے تباہی کا سماں ہے
معزز کالا کوٹ
نئے پاکستان میں آج وہ بھی مضطرب ہے
کالی سیاہی سے روشن پاکستان لکھنے والا
صحافی
وہ بھی زباں بندی کی شکایت کر رہا ہے
زباں کھولتا ہے تو
غدار کہلایا جاتا ہے
وہ بھی اپنے اپنے محاذ پر قلم کو تھام کر کر ڈٹ گیا
وہ غدار ہے تو ثابت کرو
غیر مسلّح صحافی
قلم کے ہتھیار کا سپاہی
حق بات نہیں لکھ سکتا
نہ ہی بول سکتا ہے
وہ بھی ملک گیر اعلان بغاوت کر رہا ہے
کس کس کو کیسے چُپ کروائیں گے
غدار اور وفادار کا فیصلہ ادارے کیوں کر رہے ہیں؟
یہ ٹائیٹل ہم نے بکتے بھی دیکھے اور بٹتے بھی دیکھے
اور
انہی کو پابند سلاسل اور پھر تختہ دار تک جاتے بھی دیکھا
نیا پاکستان
کیا ہے یہ نیا پاکستان
آپ کیلئے مؤرخ اپنے قلم کو کبھی جانبدار نہیں کرے گا
وہ لکھ رہا ہے
با پردہ بیوی اعلیٰ معیار اپنے لیے
اور
دوسری عورتوں کو آپ کے زمانے میں
کیا سے کیا بنا دیا گیا

سال 2912
آپ پیرس میں فرما کر گئے تھے
فرشتے آپ کو نہیں ملے
جب انسان ہی ملے ہیں
تو سامنے موجود انسانوں کے ساتھ
باعزت اعلیٰ مرتبت رتبے کے مطابق سلوک کیجیۓ
چترال میں گلیشئیر ٹوٹتے ہی آپکی بہن کے لئے
سپیشل ہیلی کاُپٹر نے اڑان بھری اور انہیں ریسکیو کیا
ابھی تک وہاں دو ہزار لوگ امداد کے منتظر ہیں
کیا باقی لوگ پاکستانی یا انسان نہیں تھے؟
دکھ کی بات ہے
عمران خاں صاحب
ملک کے حالات اس وقت عام نہیں ہیں
ایسے میں سیاسی مخالفین کے ساتھ تعاون کر کے ملک
کو اندرونی استحکام دیا جا سکتا تھا
لیکن
مسلسل تضحیک تذلیل طنزیہ گفتگوکا نتیجہ
گزشتہ ہفتے میڈیا میں جو کچھ ہوا
وہ صرف آپ کے غلط اقدامات کی وجہ سے ہوا
شائستگی اور خاموشی مخالفین کیلئے
وقت کی ضرورت تھی
جو آپ نے نہیں سمجھی
نتیجہ
معاملات خود آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے
اس ملک میں کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے
خواہ اس پر انصاف کا یا حفاظٹ کا لیبل ہو
ہر ادارے میں اچھے برے سب ہی موجود ہوتے ہیں
ملک میں بڑہتی بغاوت
آپ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے ہے
ملک کےمختلف ادارے
جس طرح ریاست کے سامنے
ڈٹ کر کھڑے ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں
وہ نشیمن پاکستان کی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں
آج تک اس قدر نازک معاملات دیکھنے کو نہیں ملے
جو آپکی اکڑ دھونس اور نا تجربہ کاری کی وجہ سے
دیکھنے کو مل رہے ہیں
یہ ملک قائد نے بڑی جدو جہد کے بعد بنایا تھا
اس کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑہائیں
ہر عمل کا رّد عمل ہر گزرتے دن کے ساتھ
اپوزیشن سامنے لا رہی ہے
اس میں کس قدر قہر اور کس قدر نفرت ہے
لاوہ بہہ نکلا تو ملک کہاں ہوگا؟
اللہ اکبر
تباہی ہی تباہی
کہنا صرف یہی ہے
ملک کے باہمی نفرتوں پر مبنی معاملات
اداروں کو پراگندہ کر کے
اب کسی اور ہی سمت بڑھ رہے ہیں
یہ را کی سازش ہے؟
کہ
ایک دوسرے کو غدار کہہ کر
وزیر اعظم کوجواب
“”کس کھیت کی مولی ہو “”
یہ سنا جا رہا ہے
نہیں یہ را نہیں ہے
یہ میرے ملک کا کمزور سیاسی ڈھانچہ ہے
ہر عمل کے بعد کا یہ فطری رد عمل ہے
کہ
ملک کے منصفین بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہوگئے
منصف بھی انصاف مانگ رہا ہے
اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا؟
منصفین ہی مشکوک ہو گئے
یہی وہ خطرناک نقطہ ہے جو واضح کر رہا ہے
کہ
ملک داؤ پر ہے
اب بھی
اگر
خاموشی سے اندر بیٹھ کر
پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں
معاملات کو طے نہ کیا گیا
ان دو اداروں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا
تو مملکت تماشہ بن جائے گی
جسے کوئی کنٹرول نہی کر سکے گا

اس بار مداخلت ہوئی
تو
بات کتنی صدیوں پر محیط ہوگی کون جانے
قائد کب پیدا ہو گا
اور
سال 1947 جیسا سال پھر کب آئے گا
کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا
تمام کے تمام اداروں کو
اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں واپس جانا ہوگا
ورنہ
ایک دوسرے کی حدود میں یہ
فرینڈلی فائرنگ کس قدر قاتل ثابت ہوگی
کوئی نہیں جانتا
کمزور جانبدار وزیر اعظم
یہ احساس ملک میں زور پکڑ رہا ہے
قطرہ قطرہ زہر رگوں میں سرایت کر رہا ہے
زہرکا تریاق نہ دیا گیا تو یاد رکھیں

عمران خان
رُتوں کے تیور نہیں ہیں اچھے
بدل چکے دوستوں کے لہجے
یہ سیلِ نفرت بپھر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے
سدا مُقدّم ہے تیری حُرمت مِرے وطن تو رہے سلامت
وفا کا احساس مر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر

Read More
  • 241
Loading ···
No more