NewsHub

انڈیا: رحم مادر کے ٹرانسپلانٹ سے پیدا ہونے والی پہلی بچی

سروج سنگھ نامہ نگار، بی بی سی ہندی

'میں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا تھا۔ اس لیے نہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ یہ خوشی کے آنسو تھے جس میں پانچ بچوں کو کھونے کا درد بھی شامل تھا۔ آپ میری خوشی کا تصور اسی وقت کر سکتے ہیں جب آپ وہ درد سہیں جس سے میں گزری ہوں۔'

یہ الفاظ میناکشی ولانڈ کے ہیں جو انڈیا کے شہر پونے کے گیلیکسی ہسپتال میں 17 ماہ تک زیر علاج رہیں اور جن کے ہاں 18 اکتوبر کو آپریشن سے بیٹی پیدا ہوئی جو ایک ہی دن میں ملک بھر میں مشہور ہو گئی۔

بچی کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ وہ انڈیا ہی نہیں بلکہ ایشیا پیسفک میں یوٹرس یعنی رحم مادر کے ٹرانسپلانٹ سے پیدا ہونے والی پہلی بچی ہے اور گجرات کے بھروچ کی رہنے والی میناکشی ولانڈ پہلی خاتون ہیں جو رحم مادر یا بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ سے ماں بنی ہیں۔

رادھا کے ساتھ ڈاکٹر شیلیش

میناکشی جب پہلی بار ڈاکٹر سیلیش سے ملیں تو انھوں نے کہا: 'میں صرف 28 سال کی ہوں اور اسی عمر میں تین بار میرا اسقاط حمل ہو چکا ہے۔ دو بار مردہ بچہ پیدا ہوا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب میرا اپنا بچہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن مجھے اپنی کوکھ کا بچہ چاہیے۔ میں سروگیسی (یعنی کسی دوسری خاتون کی کوکھ) سے بچہ نہیں چاہتی اور نہ ہی بچہ گود لینا چاہتی ہوں۔'

بہر حال 17 ماہ بعد اب ان کی مایوسی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

میناکشی نے چھلکتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا: 'ہم نے بھگوان کو نہیں دیکھا ہے، لیکن اگر وہ ہے، تو یقیناً وہ ڈاکٹر صاحب جیسے ہوں گے۔ لہٰذا ہم نے ڈاکٹر صاحب سے ہی بیٹی کا نام رکھنے کے لیے کہا۔'

میناکشی کی بات کے درمیان ہی ڈاکٹر شیلش نے کہا: 'میناکشی کا تعلق گجرات سے ہے، جہاں بھگوان کرشن کی بہت پوجا ہوتی ہے تو ہماری بیٹی رادھا ہی ہوئی ناں! میرے خیال سے بیٹی کا نام رادھا ہی ہونا چاہیے۔'

میناکشی کے ساتھ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم

رادھا کی صحت کیسی ہے؟

رادھا 22 ہفتوں تک ہی پیٹ میں رہی۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن ایک کلو 450 گرام ہی تھا۔ تو کیا رادھا قبل از وقت پیدا ہونے والی بچی ہے اور اسے خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر شیلش نے بتایا کہ رادھا پری میچور (قبل از وقت) تو ہے لیکن اس وقت آئی سی یو میں نہیں ہے۔ پہلے ہم نے پیدائش کے لیے 21 اکتوبر کی تاریخ طے کی تھی لیکن 17 تاریخ کی رات ماں کا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا اس لیے 18 کو ہی میناکشی کا آپریشن کرنا پڑا۔

اس وقت، ماں اور بیٹی دونوں صحت مند ہیں اور ماں بچی کو اپنا دودھ پلا رہی ہے۔

رادھا اس وقت تک ہسپتال میں رہے گی جب تک کہ اس کا وزن دو کلو گرام نہیں ہو جاتا۔ میناکشی کو بھی کوئی پریشانی نہیں ہے اور انھوں نے کھانا پینا شروع کر دیا ہے۔

سیزیریئن ہی کیوں؟

کیا 32 ہفتوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو جان کا خطرہ نہیں؟

ڈاکٹر شیلیش نے بتایا کہ میناکشی کے پیٹ میں ان کی والدہ کے رحم مادر کی پیوندکاری کی گئی تھی۔ میناکشی کی ماں کی عمر 48 سال ہے۔ اس لحاظ سے ان کے یوٹرس کی عمر بھی 48 سال ہوئی۔ ’اتنے سال پرانے رحم میں بچے کو رکھنے کی استطاعت کم ہوتی ہے۔ 20 سال قبل میناکشی کی والدہ حاملہ ہوئی تھیں۔ لہٰذا، سیزیریئن کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر شیلش نے رحم کے ٹرانسپلانٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یوٹرس کی پیوندکاری کے وقت صرف رحم کا ہی ٹرانسپلانٹ کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ کی نسوں کا نہیں۔ اس لیے اس طریقے کے حمل میں درد زہ نہیں ہوتا۔

عام طور پر اس قسم کے ٹرانسپلانٹ کے لیے ڈونر یعنی رحم مادر کا عطیہ کرنے والی خاتون کی عمر 40 اور 60 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔

'ایشرمن سنڈروم'

میناکشی کو حمل نہیں ٹھہر پا رہا تھا کیونکہ انھیں 'ایشرمن سنڈروم' نامی بیماری تھی۔ اس بیماری میں خواتین کے حیض کا مسئلہ ہوتا ہے اور رحم مادر برسوں تک کام نہیں کرتا ہے۔ عام طور پر بار بار اسقاط حمل کی وجہ سے اس قسم کا مرض ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پہلی اولاد کے بعد رحم مادر میں خراش آنے سے بھی یہ بیماری ہو جاتی ہے۔

انٹرنیشنل جرنل آف اپلائڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 15 فیصد خواتین مختلف وجوہات کی وجہ سے ماں بن نہیں سکتیں۔ جن میں تین سے پانچ فیصد خواتین کے رحم مادر میں کوئی خرابی ہوتی ہے۔

میناکشی آخری بار دو سال قبل حاملہ ہوئی تھیں۔

یوٹرس ٹرانسپلانٹ: اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟

دنیا میں رحم مادر کی پیوندکاری انتہائی کم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شیلیش کے مطابق پوری دنیا میں اب تک صرف 26 عورتوں میں ہی یوٹرس ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے اور جن میں سے صرف 14 کامیاب رہے ہیں۔

ڈاکٹر شیلیش اپنی ٹیم کے ساتھ

جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق دنیا میں اب تک 42 ٹرانسپلانٹ ہوئے ہیں جن میں سے صرف آٹھ معاملوں میں خواتین ٹرانسپلانٹ کے بعد حاملہ بھی ہوئی ہیں۔

آٹھ میں سے سات واقعات سویڈن کے ہیں جبکہ ایک امریکہ کا ہے۔ میناکشی کا معاملہ ایشیا پیسفک کا پہلا واقعہ ہے جہاں ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ پیدا ہوا ہے۔

ڈاکٹر شیلیش کا کہنا ہے کہ ٹرانسپلانٹ کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ ڈونر خاتون ماں، بہن یا خالہ ہو۔

اس وقت انڈیا میں اس کے متعلق کوئی قانون نہیں ہے کیونکہ اس میں ابھی بہت کامیابی نہیں ملی ہے۔

ڈاکٹر شیلیش کے مطابق ڈونر ملنے کے بعد لیپروسکوپی سے یوٹرس نکالا جاتا ہے۔ یوٹرس ٹرانسپلانٹ میں زندہ خاتون کا ہی یوٹرس لیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل میں دس سے بارہ گھنٹے لگتے ہیں۔

دوسرے اعضا کے برعکس عورت کی موت کے بعد اس کے یوٹرس کا عطیہ نہیں کیا جا سکتا۔

پرخطر حمل

ڈاکٹر شیلیش نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے کے ایک سال بعد ہی رحم مادر حاملہ ہونے کے لیے تیار ہوتا ہے لیکن وہ بھی معمول کے عمل کے ذریعے نہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق یوٹرس ٹرانسپلانٹ کے بعد اس کے مسترد کیے جانے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے یعنی زیادہ تر معاملوں میں ایک جسم باہر سے نے والے کسی اعضا کو قبول نہیں کرتا۔ اس لیے ایک سال تک اس کی نگرانی کی ضرورت رہتی ہے۔

یوٹرس ٹرانسپلانٹ کے بعد اگر خاتون کو بچہ چاہیے تو پہلے امبریو یعنی جینین کو لیباٹری میں تیار کیا جاتا ہے اور پھر اسے خاتون کے رحم میں نصب کر دیا جاتا ہے۔

جینین بنانے کے لیے ماں کے بیضے اور والد کے نطفے یا مادہ منویہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میناکشی کے معاملے میں بھی اسی طرح کیا گیا۔ رواں سال اپریل کے پہلے ہفتے میں، ڈاکٹر شیلش اور ان کی ٹیم نے لیب میں تیار جینین کو ان کی کوکھ میں نصب کیا۔

انٹرنیشنل جرنل آف اپلائیڈ ریسرچ کے مطابق یوٹرس ٹرانسپلانٹ میں سات سے دس لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ لیکن میناکشی کا معاملہ ملک کا پہلا معاملہ تھا لہٰذا ہسپتال نے یہ ٹرانسپلانٹ مفت کیا تھا۔

ڈاکٹر شیلیش اس طرح سے حمل ٹھہرانے کے عمل کو انتہائی پرخطر قرار دیتے ہیں۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ نہ تو میناکشی کے اہل خانہ کوئی خطرہ مول لینا چاہتے تھے اور نہ ہی ان کی ڈاکٹروں کی ٹیم۔

اس طرح حاملہ ہونے کی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر شیلیش نے کہا: 'میناکشی مدافعتی نظام کو سست کرنے والی ادویات پر ہیں، لہٰذا حمل کے دوران ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بلڈ پریشر کے بڑھنے اور کم ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ لہٰذا مریض کو نگہداشت میں رکھنا ہوتا ہے۔'

Read More
  • 264
Loading ···
No more